کیا واقعی پاکستان میں پٹرول 500روپے لیٹر ہونے والا ہے؟

بحیرہ احمر میں واقع اہم آبی گزرگاہ باب المندب کی بندش نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے بعد اب باب المندب میں کشیدگی نے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو نہ صرف عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے بلکہ سعودی عرب، ایران، حوثیوں اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان کشیدگی بھی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے ممکنہ اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش سے جہاں عالمی سطح پر پٹرولیم مصبوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہیں وہیں پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت آنے والے دنوں میں 500 روپے فی لیٹر سے تجاوز ک سکتی ہے۔

بحیرہ احمر کی اہم آبی گزرگاہ باب المندب کی بندش نے عالمی سطح پر نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف عالمی بحری تجارت بلکہ تیل کی ترسیل، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں پہلے سے جاری کشیدگی کے بعد باب المندب میں پیدا ہونے والا بحران اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ خطہ ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ذریعے دنیا کے قابلِ ذکر حصے تک خام تیل اور تجارتی سامان پہنچایا جاتا ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، بحری انشورنس، نقل و حمل کے اخراجات اور سپلائی چین پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات نے شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں اکثر بحری کمپنیاں متبادل راستے اختیار کرنے یا متاثرہ علاقے میں جہاز بھیجنے سے گریز کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت مزید مہنگی اور سست ہو سکتی ہے۔

سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ باب المندب کی صورتحال کو صرف ایک مقامی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق خطے میں جاری وسیع تر جغرافیائی کشمکش سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کے مفادات اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے سفارتی اور عسکری تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے بھی بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کے تحفظ کو اہم قرار دیتا ہے، کیونکہ عالمی تجارت میں رکاوٹ کا براہِ راست اثر پاکستان سمیت درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور علاقائی طاقتوں کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی نمایاں ہوں گے۔ ایسے حالات میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگائی، شپنگ اخراجات اور سپلائی چین کے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کار اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا پائیدار حل صرف عسکری کارروائیوں میں نہیں بلکہ سفارتی مذاکرات، علاقائی رابطوں اور بین الاقوامی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اگر متعلقہ فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات نہ کر سکے تو باب المندب کا بحران عالمی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Back to top button