بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا کچھ بدلنے والا ہے؟

وفاقی حکومت نے پہلی بار "قومی امیگریشن اور ویلفیئر پالیسی 2026” متعارف کرا دی ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بہتر قانونی تحفظ، معیاری روزگار، جدید تربیت، سرمایہ کاری کے مواقع اور فلاحی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی صرف افرادی قوت بیرونِ ملک بھیجنے تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستانی ورکرز کی عالمی معیار کے مطابق تیاری، محفوظ امیگریشن، قانونی معاونت، ڈیجیٹل سہولتوں اور وطن واپسی کے بعد ان کی باعزت بحالی کو بھی یقینی بنائے گی۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ "قومی امیگریشن اور ویلفیئر پالیسی 2026” کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے، جسے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پالیسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ، عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، قانونی روزگار کے مواقع میں اضافہ اور سالانہ ترسیلاتِ زر کو مزید فروغ دینا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے مطابق اس پالیسی پر تقریباً نو برس تک کام کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں اسے حتمی شکل دے کر نافذ کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیح صرف زیادہ افراد کو بیرونِ ملک بھیجنا نہیں بلکہ انہیں بہتر مہارت، محفوظ روزگار اور مناسب قانونی تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے قانونی اور منظم روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے "ٹیلنٹ پارٹنرشپس” اور "مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ” جیسے پروگراموں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی لیبر مارکیٹ میں بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے نیوٹیک کے تحت بین الاقوامی معیار کی تربیت، عالمی سرٹیفیکیشن اور ملک بھر میں سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ خواتین، معذور افراد اور بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے کم نمائندگی والے علاقوں کے شہریوں کو بھی مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پالیسی میں ترسیلاتِ زر کے قانونی ذرائع کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ جیسے منصوبوں میں مزید مراعات دی جائیں گی تاکہ حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر قانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہو اور زرِمبادلہ کے قانونی بہاؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام، ای او بی آئی کے تحت پنشن سکیم، تعلیمی واؤچرز اور خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز کو مقامی قانونی معاونت فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی اس پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بین الاقوامی کال سینٹر اور جدید آن لائن نظام متعارف کرانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
نئی پالیسی میں بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے کارکنوں کی بحالی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا بیس تشکیل دیا جائے گا جبکہ بیرونِ ملک حاصل کیے گئے تجربے اور اسناد کو ملک میں تسلیم کرنے کے لیے "ایکویولنسی فریم ورک” متعارف کرایا جائے گا تاکہ واپسی پر ان کی مہارتوں سے قومی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
حکومت نے امیگریشن کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت "پاک ٹاک” ایپ، "پاک ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک” اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے درخواستوں، شکایات اور خدمات کی فراہمی کو آسان بنایا جائے گا۔ کم نمائندگی والے علاقوں میں نئے دفاتر کھولنے، سفارت خانوں میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے کردار کو وسعت دینے اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنسنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
پالیسی میں غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ، گداگری اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور بیرونِ ملک روانگی سے قبل تربیتی پروگرام لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ نمایاں خدمات انجام دینے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈز، سرکاری مشاورتی اداروں میں نمائندگی اور پاکستان میں سرمایہ کاری و سیاحت کے فروغ میں ان کے کردار کو بھی تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اگرچہ امیگریشن ماہرین نے اس پالیسی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ان کے مطابق اصل کامیابی اس پر مؤثر عملدرآمد، شفاف نظام، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، خواتین کی زیادہ شمولیت اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو درپیش سفارتی و قانونی مسائل کے عملی حل سے مشروط ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنے مقررہ اہداف کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے تو یہ نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
