ایرانی حملوں کے بعد عباس عراقچی کا فیلڈ مارشل سے ہنگامی رابطہ

خلیجی خطے میں حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد ایران نے سفارتی رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان سمیت متعدد اہم ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے کر کے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان، فرانس، ترکیہ، قطر، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر مشاورت کرنا تھا۔وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اس دوران علاقائی سیکیورٹی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور حالیہ واقعات کے ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئیں۔مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کی جانب سے اہم علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے رابطے خطے میں ممکنہ سفارتی پیش رفت اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
