سپریم کورٹ کا نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

 

سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا۔

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی، جبکہ نیب آرڈیننس کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئین کے آرٹیکل 175 اے اور 175 ایف کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل شدہ تصور کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بھی ہائی کورٹ میں ضمانت سے متعلق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔

 

عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی کال کی ناکامی طے کیوں ہے؟

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت سے متعلق درخواست بھی اب وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی۔

Back to top button