بجٹ کے بعد پٹرول کی قیمت میں کتنا اضافہ ہونے والا ہے؟

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے والی متعدد تجاویز زیر غور ہیں، جن میں پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ، اشیائے خورونوش پر سیلز ٹیکس وصولی کے نظام میں توسیع، کرپٹو ٹریڈنگ پر ٹیکس عائد کرنا اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس رعایتوں کا خاتمہ شامل ہے۔ جس کے بعد جہاں مہنگائی کا طوفان عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دے گا وہیں پٹرول کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت یکم جولائی 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمٹ سپورٹ لیوی کو دگنا کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس تجویز کے تحت لیوی کی شرح موجودہ 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کی جا سکتی ہے۔ تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران اس مد میں 90 ارب روپے سے زائد کی وصولی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے بقول حکومت نے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ان مصنوعات پر پرچون قیمت کی طباعت لازمی قرار دی جائے گی تاکہ فروخت کے مرحلے پر سیلز ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن اشیائے ضروریہ اور خوراک پر پہلے سے بھاری ٹیکس نافذ ہیں، انہیں آئندہ بجٹ میں بھی برقرار رکھنے کا امکان ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تاجروں کیلئے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروباری حجم رکھنے والے تاجروں کو 25 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس اسکیم میں شامل تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کیلئے زور دیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے کے وقت متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کارپوریٹ سیکٹر کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
ڈیجیٹل معیشت اور کرپٹو کرنسی کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مجوزہ تجاویز کے تحت کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق نئی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
آٹو موبائل شعبے میں بھی متعدد رعایتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس استثنیٰ یکم جولائی 2026 سے ختم کیا جا سکتا ہے، جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد رعایتی سیلز ٹیکس صرف 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو حاصل رعایتی ٹیکس سہولت بھی ختم ہونے کا امکان ہے اور اس میں مزید توسیع دیے جانے کے امکانات کم ہیں۔
وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں سابق قبائلی اضلاع کیلئے دی گئی مختلف ٹیکس چھوٹ اور استثنیٰ واپس لینے پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
صحت کے شعبے کیلئے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رقم سے 21 جاری اور 12 نئے ترقیاتی منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ڈرگ کنٹرول پروگرام کیلئے 14 کروڑ روپے جبکہ قومی آبادی ایکشن پلان کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق اسلام آباد کینسر اسپتال کیلئے ایک ارب 29 کروڑ 76 لاکھ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اسپتال کیلئے جدید طبی آلات کی خریداری کیلئے مزید ڈیڑھ ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس سی پروگرام کیلئے ڈیڑھ ارب روپے اور وزیراعظم انسداد ذیابیطس پروگرام کیلئے ایک ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔اسی طرح انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس سسٹم کی ترقی کیلئے ایک ارب 83 کروڑ روپے، قومی صحت کے جاری منصوبوں کیلئے 19 ارب 36 کروڑ روپے، وزیراعظم قومی صحت پروگرام کیلئے 2 ارب روپے اور ایچ آئی وی، ایڈز، ملیریا و ٹی بی کنٹرول پروگرام کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق جناح اسپتال پولی کلینک اسلام آباد منصوبے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی متعدی امراض لیبارٹری کیلئے ایک ارب روپے، جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کیلئے 50 کروڑ روپے اور پمز اسپتال میں اسٹروک و کریٹیکل کیئر سہولیات کی توسیع کیلئے بھی ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بنتی ہیں تو حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوگا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات، خوراک اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
