آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کب اور کہاں ہو گی؟ فیصلہ ہو گیا

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین مشہد مقدس میں واقع امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے احاطے میں کی جائے گی، جس کیلئے ایرانی حکام نے باضابطہ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ تدفین سے قبل ایران کے تین بڑے شہروں تہران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے عظیم اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے غیرمعمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سے دو کروڑ (15 سے 20 ملین) افراد کی شرکت کے پیش نظر منصوبہ بندی جاری ہے۔ محمد امین توکلی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران ایک ایسے رہنما کو الوداع کہنے جا رہا ہے جسے دنیا بھر میں استکبار مخالف قیادت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے رہبرِ انقلاب کے جنازے میں شرکت کیلئے لاکھوں افراد ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک سے ایران پہنچیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف ایرانی صوبوں اور شہروں نے نماز جنازہ اور تعزیتی تقریبات کی میزبانی کیلئے درخواستیں دی ہیں، جبکہ تدفین کا عمل ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم الحرام کے آغاز کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ان کے مطابق تہران میں نماز جنازہ اور متعلقہ تقریبات تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع نہ صرف شیعہ مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرے گا اور اسے تاریخ کے بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین میں پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش، کشمیر اور دیگر ہمسایہ ممالک سے بڑی تعداد میں سوگواروں، مذہبی شخصیات اور وفود کی شرکت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں رہبرِ انقلاب کے ساتھ ان کے خاندان کے چند قریبی افراد اور پاسدارانِ انقلاب کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی شہید ہوئے تھے۔ایرانی ذرائع کے مطابق حملوں کے دوران بعض شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک اسکول پر بمباری کا واقعہ بھی شامل تھا۔ ان حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائیاں شروع کیں، جس کے نتیجے میں پورا خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں اپریل میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے براہِ راست حملے روک دیے گئے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ امریکا کی جانب سے بعض پابندیاں اور بحری نگرانی کا نظام تاحال جاری ہے، البتہ مخصوص تجارتی اور بین الاقوامی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔سیاسی اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور نماز جنازہ کی تقریبات ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شامل ہو سکتی ہیں، جن میں ملک بھر کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔
