ایران امریکہ کشیدگی نے پاکستانی معیشت کا کباڑہ کیسے نکالا؟

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے معاشی جھٹکے پاکستان تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ وزارت تجارت کی تازہ دستاویزات نے انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ملکی معیشت اور برآمدی شعبے کیلئے نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 70 فیصد تک گر گئیں۔ گزشتہ سال مارچ میں جہاں پاکستان نے 31 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کی مصنوعات خلیجی ممالک کو برآمد کی تھیں، وہی حجم کم ہو کر صرف 9 کروڑ 54 لاکھ ڈالر رہ گیا۔ یہ کمی کسی ایک شعبے یا ملک تک محدود نہیں بلکہ تقریباً پورے خلیجی خطے میں پاکستانی تجارت کو متاثر کر رہی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت میں سامنے آیا، جہاں پاکستانی برآمدات میں 74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین اور کویت کو بھی پاکستانی مصنوعات کی ترسیل میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ خاص طور پر عمان اور بحرین کیلئے برآمدات میں 85 فیصد تک کمی ایک تشویشناک اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

اس صورتحال کی بنیادی وجہ جنگ کے نتیجے میں سمندری اور فضائی راستوں کا متاثر ہونا ہے۔ مشرق وسطیٰ عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے اور پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ بڑی تجارتی سرگرمیاں انہی راستوں پر منحصر ہیں۔ جنگی خطرات بڑھنے کے بعد شپنگ کمپنیاں اضافی انشورنس چارجز وصول کر رہی ہیں جبکہ کئی بحری راستوں پر تاخیر اور رکاوٹیں بھی پیدا ہوئی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تقریباً 80 فیصد تجارت متحدہ عرب امارات کی جبل علی پورٹ کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اگر اس لاجسٹک نظام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف برآمدات پر نہیں بلکہ درآمدات، سپلائی چین اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑ سکتا ہے۔یہ صورتحال پاکستانی معیشت کیلئے اس وقت مزید خطرناک بن جاتی ہے جب ملک پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر، تجارتی خسارے اور برآمدات بڑھانے کے چیلنج سے دوچار ہے۔ خلیجی ممالک پاکستان کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں ٹیکسٹائل، خوراک، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر اشیاء بڑی مقدار میں بھیجی جاتی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو پاکستان کی برآمدی آمدن مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف برآمد کنندگان کو نقصان ہوگا بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول حکومت کیلئے اب ضروری ہے کہ خلیجی منڈیوں پر مکمل انحصار کم کرنے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش تیز کی جائے، متبادل شپنگ راستے اختیار کیے جائیں اور برآمد کنندگان کو اضافی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ عالمی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکا کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ آج کی عالمی معیشت میں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران ہزاروں کلومیٹر دور موجود ممالک کی معیشت کو بھی براہ راست متاثر کر سکتا ہے، اور پاکستان اس حقیقت کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

Back to top button