نواز شریف کا سیاسی کم بیک، کیا ن لیگ کی گرتی مقبولیت سنبھل سکے گی؟

گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی موجودگی نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی ماہ سے نسبتاً خاموش سیاسی کردار ادا کرنے والے سابق وزیر اعظم نے گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرکے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ عملی سیاست سے الگ نہیں ہوئے اور اب بھی اپنی جماعت کیلئے متحرک کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نون لیگ کے قریبی حلقوں کے مطابق نواز شریف کی سیاست کا سب سے بڑا وصف یہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی جماعت کی شناخت کا مرکز رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی وجود، اس کا ووٹ بینک اور اس کی انتخابی حکمت عملی بڑی حد تک نواز شریف کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پارٹی کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، نظریں بالآخر نواز شریف پر جا ٹھہرتی ہیں۔

گلگت میں اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے روایتی سیاسی تنقید سے گریز کیا اور اپنی توجہ کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت پر مرکوز رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ووٹ کے بدلے وعدے نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جہاں انہوں نے عوام سے شکوہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ انہیں دیس نکالا کیوں ہونے دیا گیا، کیوں جیلوں میں ڈالا گیا اور کیوں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

مبصرین کے مطابق یہ جملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نواز شریف آج بھی اپنی سیاسی نااہلی، جلاوطنی اور ماضی کے سیاسی واقعات کو بھول نہیں پائے۔ ان کا یہ بیانیہ ایک مرتبہ پھر ان کے حامی ووٹرز میں ہمدردی پیدا کر سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ماضی کی داستانیں آج کے ووٹر کو متاثر کر سکیں گی؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول حقیقت یہ ہے کہ آج کا پاکستان 2017 یا 2018 کے پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ عوام اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بلوں اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے میں سیاسی بیانیے سے زیادہ معاشی کارکردگی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کو خود کو ثابت کرنا ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو نواز شریف کا "کارکردگی کا بیانیہ” دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر عوامی مشکلات برقرار رہتی ہیں تو محض نواز شریف کی سیاسی موجودگی پارٹی کی مقبولیت بحال کرنے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔

گلگت کے جلسے نے ایک اور حقیقت بھی واضح کی ہے کہ نواز شریف اب پہلے کی طرح جارحانہ محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے مفاہمت، مشاورت اور رہنمائی کے کردار کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کی تقریر میں اسٹیبلشمنٹ یا سیاسی مخالفین کے خلاف سخت زبان نہیں تھی بلکہ توجہ ترقی، انفراسٹرکچر اور عوامی مسائل پر مرکوز رہی۔

مسلم لیگ (ن) کیلئے اصل چیلنج اب یہ ہے کہ وہ نواز شریف کی شخصیت سے آگے بڑھ کر نئی نسل کو کیا وژن دیتی ہے۔ نوجوان ووٹر ماضی کے سیاسی تنازعات سے زیادہ مستقبل کے معاشی مواقع، تعلیم، ٹیکنالوجی اور روزگار کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اگر پارٹی ان سوالات کے قابلِ عمل جواب فراہم کرتی ہے تو نواز شریف کی واپسی سیاسی فائدہ دے سکتی ہے۔

آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نواز شریف آج بھی پاکستانی سیاست کا ایک اہم کردار ہیں اور ان کی موجودگی مسلم لیگ (ن) کیلئے سیاسی توانائی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم موجودہ دور میں صرف شخصیت نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی ہی اصل سیاسی سرمایہ بن چکی ہے۔ ن لیگ کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اور نواز شریف کے کارکردگی پر مبنی سیاسی فلسفے کو عملی شکل دینے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔

Back to top button