وفاقی کابینہ : جعلی ادویات کے خاتمے کےلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی منظوری

 

 

 

وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کی نگرانی اور جعلی ادویات کے خاتمے کےلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دےدی گئی ہے،یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جاسکے گا،اس نظام کے تحت غیر معیاری اور جعلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا،نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لےسکے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی،نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کےلیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں،یہ اہم فیصلہ ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کےلیے کیا ہے۔

پاکستانی سگریٹ ٹیکس پالیسی عوامی تنقید کی زد میں کیوں؟

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی،پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانےوالا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا،اس نظام کےذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لےگا۔

 

Back to top button