کیا خونریز جھڑپوں کے بعد ایکشن کمیٹی سے حکومتی مذاکرات ممکن ہیں؟

آزاد کشمیر میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے تنازع نے ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی مبینہ خونریز جھڑپوں میں متعدد جانوں کے ضیاع کے بعد اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت اور کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ممکن ہو سکیں گے یا نہیں؟
مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات نے نہ صرف خطے کی سیاسی فضا کو کشیدہ کیا بلکہ آزاد کشمیر کی داخلی سیاست، قانونی نظام اور عوامی اعتماد سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے وقت میں بھی وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک اہم سیاسی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے لوگ ریاست کے اپنے شہری ہیں اور ان کے بعض مطالبات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی دعوت کے ساتھ مظاہرین کی سلامتی، آزادانہ نقل و حرکت اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی ضمانت دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت محض طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل کرنے کے بجائے سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔دوسری جانب ایکشن کمیٹی نے تاحال مذاکراتی پیشکش کا باضابطہ جواب نہیں دیا اور اپنے لانگ مارچ پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کا فقدان ابھی بھی دونوں فریقوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک کالعدم قرار دی گئی تنظیم سے مذاکرات قانونی طور پر ممکن ہیں؟ اس حوالے سے ماہرین قانون کی رائے کافی واضح دکھائی دیتی ہے۔ سابق چیف جسٹس اور بار کونسل کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ دنیا کا کوئی قانون مذاکرات پر پابندی عائد نہیں کرتا۔ ریاستیں جنگوں کے دوران بھی مذاکرات کرتی ہیں، لہٰذا داخلی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ کشمیر کے قانونی حلقوں کی جانب سے بھی حکومت اور مظاہرین دونوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بار کونسلز، سینئر وکلا اور سابق ججز اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے میں پوشیدہ ہے۔
تاہم اس بحران کا دوسرا پہلو بھی کم اہم نہیں۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کا دعویٰ ہے کہ بعض عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلح حملے کیے، ہسپتالوں کا محاصرہ کیا اور امن و امان کو نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب احتجاجی حلقے ریاستی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ سخت قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد بیانیے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مبصرین کے بقول بین الاقوامی سطح پر بھی یہ معاملہ توجہ حاصل کر چکا ہے۔ لندن اور کینیڈا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے ان بیانات کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی سیاسی تنازع اب عالمی سطح پر بھی زیرِبحث آ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران صرف ایک تنظیم یا ایک احتجاجی تحریک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عوامی نمائندگی، آئینی حقوق، مہاجر نشستوں کے مستقبل اور ریاستی طرزِ حکمرانی سے جڑے وسیع تر سوالات کو سامنے لا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راولاکوٹ کے حالیہ واقعات کے بعد سب سے اہم ضرورت کشیدگی میں کمی، شفاف تحقیقات اور بامعنی مذاکرات کی ہے۔ اگر فریقین اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہے تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف حالیہ کشیدگی کے خاتمے کا راستہ ہموار کرے گا بلکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کی نئی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے چند دن یہ طے کریں گے کہ کشمیر کی سیاست تصادم کی طرف جاتی ہے یا مفاہمت کی طرف۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ہی وہ واحد راستہ دکھائی دیتے ہیں جو خونریزی کو روک کر سیاسی حل کی جانب پیش رفت ممکن بنا سکتے ہیں۔
