کیا واقعی پاکستان میں لیتھیم بیٹریاں سستی ہونے والی ہیں؟

سندھ کے ضلع خیرپور میں لیتھیم کے ذخائر کی دریافت نے پاکستان کے توانائی اور صنعتی شعبے میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ دنیا بھر میں "سفید سونا” کہلانے والی یہ دھات الیکٹرک گاڑیوں، سولر انرجی اسٹوریج، موبائل فونز اور جدید الیکٹرانک آلات کی بیٹریوں کا بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان ذخائر کی مقدار تجارتی پیمانے پر قابلِ عمل ثابت ہوئی اور حکومت نے بروقت صنعتی و سرمایہ کاری کی پالیسیاں اختیار کیں تو پاکستان نہ صرف درآمدی انحصار کم کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں مقامی بیٹری سازی اور قابلِ تجدید توانائی کی صنعت میں بھی اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی مانگ گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ شمسی توانائی کے نظام، انورٹرز، الیکٹرک بائیکس، الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز اور دیگر جدید الیکٹرانک آلات کے بڑھتے استعمال کے باعث ہر سال کروڑوں ڈالر مالیت کی لیتھیم بیٹریاں اور خام مال درآمد کیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2026 تک پاکستان تقریباً 6.004 گیگا واٹ آور لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کر چکا ہے، جن پر ایک ارب ڈالر سے زائد کی لاگت آئی۔ ایسے میں سندھ کے ضلع خیرپور میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کی جانب سے لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دریافت کے بعد او جی ڈی سی ایل اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنس ٹیک) کے درمیان معاہدہ بھی طے پا چکا ہے، جس کے تحت جیوتھرمل پانی سے لیتھیم نکالنے کی ٹیکنالوجی پر کام کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سندھ کے دیگر علاقوں میں مزید آٹھ سے دس کنوؤں کی جانچ کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے تاکہ ذخائر کے حجم اور معیار کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق تاہم صرف ذخائر کی دریافت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں فوری طور پر سستی بیٹریاں بننا شروع ہو جائیں گی۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذخائر کی مقدار، خالص پن اور تجارتی افادیت کتنی ہے۔ اس کے بعد کان کنی، پروسیسنگ، ریفائننگ، سرمایہ کاری اور صنعتی ڈھانچے کی تشکیل جیسے کئی تکنیکی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔
لیتھیم بیٹریوں کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت لیتھیم پروسیسنگ اور ریفائننگ کی مکمل صنعتی سپلائی چین موجود نہیں۔ اگرچہ بعض لیبارٹریاں معدنی تجزیے کی صلاحیت رکھتی ہیں، مگر عالمی معیار کی پروسیسنگ کے لیے جدید مشینری، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تکنیکی تعاون ناگزیر ہوگا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق خیرپور میں آئل اور گیس کے گہرے کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی میں لیتھیم کی موجودگی سامنے آئی ہے، لیکن اسے تجارتی پیمانے پر نکالنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے کئی برس کی تحقیق، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔
قابلِ تجدید توانائی کے ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ کے باوجود مقامی سطح پر لیتھیم بیٹریوں کی تیاری نہ ہونے کی بڑی وجہ پالیسیوں کا عدمِ تسلسل اور صنعتی سرمایہ کاری کا محدود ماحول ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واضح، طویل المدتی اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرائے تو عالمی کمپنیاں پاکستان میں بیٹری مینوفیکچرنگ اور معدنی صنعت میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا مجموعی مؤقف یہی ہے کہ خیرپور میں لیتھیم کی دریافت بلاشبہ ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کے نتیجے میں جلد ہی بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ جائے گی۔ اگر آنے والے برسوں میں ذخائر کا حجم تجارتی سطح پر مؤثر ثابت ہوتا ہے، پروسیسنگ کا مقامی نظام قائم کیا جاتا ہے اور صنعتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنی درآمدات کم کر سکے گا بلکہ بیٹری سازی، الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کی عالمی سپلائی چین میں بھی اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔
