اسلام آباد کی چیک پوسٹوں پر پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی کیوں؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف چیک پوسٹس، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر پنجاب پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکاروں کی تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری سکیورٹی صورتحال کے باعث اسلام آباد پولیس کی بڑی نفری کی وہاں تعیناتی کے بعد کیا گیا، جبکہ بعض سابق پولیس افسران اسے انتظامی حکمتِ عملی کے بجائے افرادی قوت کے غیر مؤثر استعمال سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الصوبائی سکیورٹی تعاون، مقامی پولیسنگ اور انتظامی فیصلوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں امن و امان کی صورتحال اور کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی معاملات کے تناظر میں اسلام آباد پولیس کی بڑی نفری کئی ہفتوں سے مظفرآباد اور راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں تعینات ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس وقت اسلام آباد پولیس کے 935 اہلکار اور افسران کشمیر میں فرائض انجام دے رہے ہیں، جن میں سینئر افسران بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی نفری میں پیدا ہونے والی اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے پنجاب پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکاروں کو دارالحکومت کے حساس مقامات، داخلی و خارجی راستوں اور مختلف چیک پوسٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی عارضی انتظام کے طور پر کی گئی ہے اور کشمیر کی صورتحال معمول پر آنے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی اقدام نہیں بلکہ ماضی میں بھی بڑے مذہبی اجتماعات، سیاسی احتجاج، بین الاقوامی کانفرنسوں اور حساس مواقع پر دیگر صوبوں کی پولیس سے مدد لی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انتظام کا مقصد دارالحکومت میں سکیورٹی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے تاکہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔

تاہم بعض سابق پولیس افسران اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریٹائرڈ ایس پی سید فرحت عباس کاظمی کے مطابق اگر کشمیر میں اضافی نفری کی ضرورت تھی تو پنجاب پولیس کو براہِ راست وہاں بھیجا جا سکتا تھا، جبکہ اسلام آباد پولیس کو اپنے ہی دائرۂ اختیار میں برقرار رکھنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا تھا۔

ان کے مطابق کسی بھی شہر کی مقامی پولیس اپنے علاقے کے جغرافیے، آبادی، حساس مقامات، جرائم کے رجحانات اور شہری رویوں سے بہتر آگاہ ہوتی ہے، جبکہ دوسرے صوبوں سے آنے والے اہلکاروں کو مقامی ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کا مؤقف ہے کہ اگر دوسرے صوبوں کی فورسز خدمات انجام دیں تو انہیں مقامی پولیس کے ساتھ مشترکہ ڈیوٹی پر تعینات کیا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی پولیس تعاون دنیا کے کئی ممالک میں بھی رائج ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار واضح کمانڈ اینڈ کنٹرول، مناسب تربیت، مؤثر رابطہ کاری اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم پر ہوتا ہے۔ اگر یہ عناصر مضبوط ہوں تو اضافی نفری شہریوں کی حفاظت اور امن و امان برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر اسلام آباد میں پنجاب پولیس کی تعیناتی ایک ہنگامی انتظامی اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم اس نے یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ قومی سطح پر سکیورٹی وسائل کی تقسیم، افرادی قوت کے استعمال اور بین الصوبائی پولیس تعاون کو مستقبل میں کس انداز سے مزید مؤثر اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔

Back to top button