حسینہ واجد کے بیٹے نے پاکستانی خفیہ ایجنسی پر جھوٹے الزامات کیوں لگائے؟

بھارت میں مقیم سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا بیٹا سجیب واجد بھی مودی وائرس کی زد میں آ گیا، مودی جنتا کی زبان بولتے ہوئے سجیب واجد نے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس اائی پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور اسے بنگلہ دیش میں سیاسی انتشار کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد جوئے کے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے متعلق الزامات اور اس پر اسلام آباد کے سخت ردعمل نے دونوں ممالک کے تعلقات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب سجیب واجد نے بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگین دعوے کیے، تو دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور سابق مشیر سجیب واجد جوئے کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں کردار ادا کر رہا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش میں آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق کسی بھی قسم کے الزام یا اشارے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا میں آئی ایس آئی کے حوالے سے غیر معمولی حساسیت پائی جاتی ہے، اور ان کے بقول چونکہ سجیب واجد بھی انڈیا میں مقیم ہیں، اس لیے ان کے بیانات پر اسی تناظر کا اثر دکھائی دیتا ہے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سجیب واجد جوئے نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے امریکہ سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت کے دور میں آئی ایس آئی کو ملک میں "کھلی چھوٹ” حاصل ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سابق حکومت کے دور میں گرفتار بعض شدت پسند عناصر کو رہا کر دیا گیا ہے اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو بنگلہ دیش مستقبل میں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

سجیب واجد نے اپنے خطاب میں انڈیا کی سلامتی سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا اور بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کو خطے کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ تاہم ان کے ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہوئی، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کر رہے ہیں۔ اس سیاسی تبدیلی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تعلقات میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں۔

حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں اضافہ، براہِ راست سمندری تجارت کی بحالی اور اعلیٰ سطح کے سرکاری رابطوں نے تعلقات کو نئی سمت دی ہے۔ اسی پس منظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات سے متعلق کسی بھی حساس بیان یا الزام کو خطے کی وسیع تر سفارتی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی بہتری جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کا تسلسل خطے کے استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

Back to top button