سعودیہ کو عراقی ملیشیاؤں، حوثیوں کے مشترکہ حملوں کا خدشہ؛ ادارے ہائی الرٹ

سعودی عرب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں عراقی ملیشیائیں اور یمن کے حوثی باغی شمال اور جنوب سے جلد مشترکہ حملے کر سکتے ہیں۔
سینئر سعودی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ حملوں میں توانائی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری و معاشی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث مختلف سمتوں سے بیک وقت حملوں کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں ایران سمیت مختلف فریقوں کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھی کی جا سکتی ہیں۔
کیا پاکستان خطے کا نیا ہیلتھ کیئر مرکز بن سکتا ہے؟
عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون انتہائی مضبوط ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
