کیا پاکستان خطے کا نیا ہیلتھ کیئر مرکز بن سکتا ہے؟

دنیا میں میڈیکل ٹورازم تیزی سے ابھرتی ہوئی ایسی صنعت بن چکی ہے جس کی مالیت آئندہ چند برسوں میں سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ بین الاقوامی معیار کے ڈاکٹرز، نسبتاً کم علاجی اخراجات اور جدید طبی سہولتوں کی بدولت پاکستان بھی اس عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر حکومتی حکمت عملی، عالمی معیار کی منظوری، جدید طبی انفراسٹرکچر اور مربوط تشہیری مہم پر توجہ دی جائے تو میڈیکل ٹورازم پاکستان کے لیے زرمبادلہ، روزگار اور سرمایہ کاری کا ایک نیا دروازہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف طبی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔ ماہرین نے حکومت کو بتایا ہے کہ عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری کی مالیت 2024ء میں تقریباً 144.5 ارب ڈالر تھی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2033ء تک یہ بڑھ کر 704.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس عرصے میں اس شعبے کی سالانہ اوسط ترقی کی شرح 19 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جو اسے عالمی معیشت کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی میڈیکل ٹورازم کی سب سے زیادہ طلب کاسمیٹک اور ایستھیٹک سرجری، دندان سازی، فرٹیلٹی ٹریٹمنٹ اور بیریاٹرک سرجری جیسے شعبوں میں ہے۔ خاص طور پر ایستھیٹک میڈیسن دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس کی وجہ جدید، کم تکلیف دہ علاج، سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر اور مرد و خواتین دونوں میں خوبصورتی اور ظاہری شخصیت بہتر بنانے کا بڑھتا رجحان ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پلاسٹک سرجن اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر سلمان کے مطابق ترکی اس وقت دنیا کے کامیاب ترین میڈیکل ٹورازم مراکز میں شامل ہے، جہاں ہر سال دس لاکھ سے زائد غیر ملکی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ہیئر ٹرانسپلانٹ، رائنو پلاسٹی، فیس لفٹ، لائپوسکشن اور دیگر کاسمیٹک سرجریوں کے لیے ترکی کا رخ کرتی ہے، جس سے اس ملک کو اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سلمان کے مطابق پاکستان بھی کئی ایسے مسابقتی فوائد رکھتا ہے جو اسے اس عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔ پاکستان میں علاج کے اخراجات مغربی ممالک کے مقابلے میں تقریباً 60 سے 90 فیصد تک کم ہیں، جبکہ یہاں اعلیٰ تربیت یافتہ سرجن، جدید طبی سہولتیں اور بین الاقوامی معیار کے علاج دستیاب ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 25 ہزار نئے ڈاکٹرز تیار کرتا ہے، جبکہ 52 ہزار سے زائد ماہر ڈاکٹر مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد نے برطانیہ، امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہے یا بین الاقوامی طبی اسناد اپنے نام کی ہیں، جو پاکستان کے طبی شعبے کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظہر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع بھی ایک اہم فائدہ ہے۔ افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستیں، خلیجی ممالک اور برطانیہ، کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی نسبتاً کم خرچ اور معیاری علاج کے لیے پاکستان کا انتخاب کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں عالمی معیار کی خدمات، محفوظ ماحول اور آسان طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پاکستانی ڈاکٹرز کی بین الاقوامی کانفرنسوں، تحقیقی منصوبوں اور جدید تربیتی پروگراموں میں مسلسل شرکت سے پاکستان کی طبی ساکھ مضبوط ہو رہی ہے۔ تاہم اس استعداد کو معاشی کامیابی میں بدلنے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی، عالمی معیار کی ایکریڈیٹیشن، طبی ویزا میں سہولت، جدید اسپتالوں میں سرمایہ کاری، مؤثر بین الاقوامی تشہیر اور مریض دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

اگر حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت میڈیکل ٹورازم کو ترجیح دیں تو پاکستان نہ صرف خطے کا اہم ہیلتھ کیئر مرکز بن سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع اور صحت کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کو بھی نمایاں فروغ دے سکتا ہے۔

Back to top button