پاکستانی وزیراعظم بمقابلہ برطانوی وزیراعظم

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ نے عوامی اور حکومتی ردِعمل آنے کے بعد اپنی بات سے رجوع کر لیا ہے اور اپنے تئیں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو پانچ سال پورے کرنے کی نوید دے دی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو لگے کہ خطرہ ٹل گیا ہے اور جو ایک بیان سے پورے ملک میں سیاسی ہیجان برپا ہوگیا تھا‘ وہ ختم ہوگیا ہے۔ لیکن کیا اب ملک کو دوبارہ وہی سیاسی ٹھہرائو نصیب ہو سکے گا جو پچھلے چار سال سے میسر تھا؟ خیر‘ اس پر بات کرتے ہیں کہ شہباز شریف پانچ سال پورے کرنے والے پہلے وزیراعظم ہوں گے یا وہ بھی 1985ء کے بعد‘ اب تک درجن بھر وزرائے اعظم کی طرح وقت سے پہلے ہی عہدہ چھوڑ دیں گے یا چھوڑنے پر مجبور کر دیے جائیں گے؟ آپ نے ایک چیز نوٹ کی ہے کہ ہمارے ہاں اگر وزیراعظم کی کرسی کو ذرا سا بھی خطرہ ہو تو لگتا ہے آسمان گرنے والا ہے۔ قیامت بس آئی چاہتی ہے۔ بھارت میں بارہ سال سے وزیراعظم چلے آ رہے مودی کے خلاف چند دن مظاہرہ ہوا تو ایسا لگا کہ اگر مودی کو ہٹا دیا گیا تو بھارت میں قیامت آ جائے گی۔ مودی ہے تو بھارت ہے۔ یہ وہ خیال ہے جو بیشثر بھارتیوں کے ذہن میں ڈال دیا گیا ہے کہ مودی کے بغیر آپ کی زندگی کا کوئی تصور تک نہیں کیونکہ مودی ہے تو ممکن ہے۔
پاکستان میں دیکھیں تو ایک وفاقی وزیر کے بیان نے یہاں وہ ہلچل مچائی کہ لگا شہباز شریف اب گئے کہ کب گئے‘ اور اگر چلے گئے تو پھر ملک کا کیا بنے گا؟ ہمارے ہاں بھی وہ سراسمیگی پھیل گئی جو چند دن پہلے تک بھارت میں پھیلی ہوئی تھی۔ مزے کی بات ہے کہ جو سیاسی افراتفری ہمارے ہاں چار مارشل لاء ادوار کے بعد کسی چھوٹی سی بات پر پھیل جاتی ہے‘ وہ بھارت میں بغیر مارشل لاء لگے پھیل جاتی ہے۔ اس بات پر ہمارا فخر بنتا ہے کہ جہاں ہم مارشل لاء کے ساتھ پہنچے ہیں‘ وہاں بھارت بغیر مارشل لاء کے پہنچ چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال دنیا کے دیگر ملکوں میں کیوں نظر نہیں آتی؟ جاپان‘ اٹلی یا فرانس کو ایک لمحے کیلئے چھوڑ کر اگر سیدھا برطانیہ چلیں تو معاملہ سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ برطانیہ کی مثال دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے مدر آف ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے‘ جہاں سے باقی دنیا نے جمہوریت سیکھی۔ اندازہ کریں کہ صرف دس برسوں میں برطانیہ میں ساتواں وزیراعظم حلف لے چکا ہے۔ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ کسی کو نہیں لگا کہ وزیراعظم جا رہا ہے تو اب کیا ہو گا‘ ہمارا کیا بنے گا؟ دس برسوں میں سات وزیراعظم کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے آپ برطانیہ کے سیاسی اور گورننس نظام کے استحکام کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں اس وقت کیا صورتحال ہے اور برطانیہ کس طرح کے سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دس برسوں میں ایک وزیراعظم کا اوسط اقتدار سوا سال بنتا ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے بہتر رہا ہے کہ یہاں دس برسوں میں نواز شریف کو ہٹانے کے بعد (شاہد خاقان عباسی‘ عمران خان‘ شہباز شریف) چوتھا وزیراعظم حکمرانی کر رہا ہے۔ وزیراعظم کی مدت کے حوالے سے ہم نسبتاً بہتر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اوسطاً ایک وزیراعظم کا دور کم از کم ڈھائی سال بنتا ہے جبکہ برطانیہ میں ٹونی بلیئر کے بعد کی اوسط سال‘ دو سال ہی بنتی ہے۔ البتہ برطانیہ میں کوئی بم نہیں گر رہا۔ وہاں ایسے وزیراعظم تبدیل ہوئے ہیں جیسے ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں۔ ہر موسم کا نیا وزیراعظم۔ برطانیہ میں کیوں کوئی سیاسی بحران پیدا نہیں ہوتا اور سب کچھ نارمل چلتا رہتا ہے‘ اس کی چند وجوہات ہیں۔ ان کا جمہوری نظام سینکڑوں برس پرانا ہے۔ وزیراعظم یا پارلیمنٹ بدلتی رہے گی لیکن اس نظام کو چلانے والے ادارے موجود ہیں اور وہاں کوئی ”پسندیدہ امیدوار‘‘ بھی نہیں ہوتا جس کیلئے پاور گیم شروع ہو جائے۔ وہاں وزیراعظم کا انتخاب اس کی پارلیمانی پارٹی کرتی ہے۔ باقاعدہ ووٹنگ ہوتی ہے کہ نیا پارٹی لیڈر کون ہو گا‘ جو وزیراعظم بنے گا۔ ووٹنگ کی بنیاد پر ہی وہاں وزیراعظم بنتے اور ہٹائے جاتے ہیں۔ پھر ان کے ہاں وزیراعظم کا اپنا یا بچوں کا کاروبار نہیں ہوتا‘ نہ ہی شوگر ملیں یا بجلی گھر ہوتے ہیں کہ اگر ہٹ گئے یا استعفیٰ دے دیا تو پھر ہم سب کے کاروبار اور بچوں کا کیا ہو گا۔ ان کے رشتہ دار بھی حکومت کا حصہ نہیں ہوتے‘ لہٰذا اتنا کچھ دائو پر نہیں ہوتا کہ اب ہر قیمت پر وزیراعظم رہنا یا تخت سے چپکے رہنا ہے۔ وہاں وزیراعظم کے پاس اتنے صوابدیدی اختیارات بھی نہیں ہیں کہ وہ جو چاہے بادشاہ کی طرح کر گزرے۔ وہاں تو سیکرٹری داخلہ اگر وزارتِ داخلہ سے بیرونِ ملک سے آنے والی اپنے بچوں کی آیا کے ویزے کا پتا کر لے تو اسے بھی مداخلت قرار دے کر اس سے استعفیٰ لے لیا جاتا ہے یا میڈیا میں شور مچنے پر وہ خود ہی استعفیٰ دے دیتی ہے۔ ایجوکیشن سیکرٹری کا بچہ اگر ٹیوشن پڑھ رہا ہو تو اس بات پر ہی اسے استعفیٰ دینا پڑ جاتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب لندن میں تھا تو وہاں اکثر دوست لندن میں رہنے کے فوائد گنواتے تھے۔ میں انہیں مذاق میں کہتا کہ کیا ٹونی بلیئر سے آپ کی دوستی ہو تو وہ آپ کو بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دے سکتا ہے؟ وہ ہنس کر کہتے: اس کی اپنی بیوی پیشیاں بھگت رہی ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ ٹرین پر سوار ہو گئی اور جب پکڑی گئی تو کہا: ٹکٹ مشین کام نہیں کر رہی تھی۔ لیکن ریلوے حکام نے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ سٹیشن پر ٹکٹ مشین کام کر رہی تھی‘ اس نے خود ٹکٹ نہیں لی۔ یہاں وزیراعظم کی اپنی بیوی کی جان پر بنی ہوئی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں بغیر ٹیسٹ کے ڈرائیونگ لائسنس بنوا دے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر ایسے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ جہاں وزیراعظم کی بیوی بھی ٹکٹ کی معمولی بات پر پیشیاں بھگت رہی ہو۔
ہمارے ہاں کوئی بھی وزیراعظم بنتا ہے تو وہ پارلیمانی پارٹی کے ووٹ سے نہیں بنتا۔ وہ خود ہی اپنی اپائنٹمنٹ کرتا ہے اور اس سے پہلے وہ کئی برس خفیہ ملاقاتیں‘ قسمیں کھانے اور گارنٹیاں دینے کے بعد خدا خدا کر کے وزیراعظم بنتا ہے۔ پھر وہ اپنے بچوں اور فیملی ممبران یا سسرالیوں کو بھی اقتدار میں لے آتا ہے‘ اس کے بچے شوگر ملیں‘ بجلی گھر‘ کارخانے‘ دودھ دہی کا بزنس شروع کر دیتے ہیں۔ لمبا مال کماتے ہیں۔ وہ یاروں‘ دوستوں یا خوشامدیوں اور اپنے ڈونرز کو وزیر بنا دیتا ہے اور اس کی توجہ ملک کی معیشت یا لوگوں کی حالت بہتر کرنے سے زیادہ اپنے فیملی بزنس کی ترقی ہوتا ہے یا بچوں کے کاروبار کو سیٹل کرنے پر‘ یا پھر مخالفین کو فکس کرنے پر۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور کارخانے تو ترقی کر رہے ہیں‘ منافع دے رہے ہیں لیکن ملک معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں اکثر کند ذہن اور بیکار لوگوں کو بڑے بڑے عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ ہمیشہ وفادار رہیں کیونکہ ذہین لوگ زیادہ وفادار نہیں ثابت ہوتے۔ اس لیے یہاں وزیراعظم اپنی کرسی سے ہر قیمت پر چمٹا رہنا چاہتا ہے کہ اس کے‘ خاندان کے اور دوستوں کے بہت سارے مفادات اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ برسوں کی تپسیا اور منت ترلے کے بعد تو وہ وزیراعظم بنتا ہے تو ہٹائے جانے کی صورت میں آگے جیل یا اندھیرا نظر آتا ہے‘ لہٰذا استعفیٰ دینا بھیانک خواب لگتا ہے۔ مغرب میں وزیراعظم کے ایسے ذاتی‘ خاندانی یا کاروباری مسائل یا مفادات نہیں ہوتے لہٰذا وہ خراب ہونے کے بجائے خود کو پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو آپ کو منظور‘ وہی مجھے منظور۔ رکھنا ہے تو جی بسم اللہ‘ ورنہ کسی اور کو لے آئیں۔
ہمارے ہاں خان صاحب نے تین سال جیل میں رہنا پسند کر لیا‘ ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی کارکردگی کو اپنے وزیر کی زبانی ایکسپوز اور سرِعام احتساب کرانا منظور کر لیا لیکن وزیراعظم کی کرسی نہیں چھوڑی۔ یہی فرق ہے ہمارے اور برطانوی وزرائے اعظم میں۔
