کیا واقعی پاکستان کا موجودہ نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے؟

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی حکومتی سسٹم کی ناکامی اور نئے صوبوں کی تشکیل بارے بیان نے ملک میں ایک نئی قومی بحث چھیڑ دی ہے۔ جس کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور جدید ریاستی تقاضوں کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت کھو چکا ہے؟ کیا نئے صوبے اور انتظامی یونٹس مسائل کا حل ہیں، یا اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام اور جامع انتظامی اصلاحات کی ہے؟ یہی سوالات آج پاکستان کی سیاست، معیشت اور طرزِ حکمرانی کے مرکز میں آ چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے ملک کے انتظامی نظام پر ایک سنجیدہ قومی مکالمے کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر یہی ڈھانچہ برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں بھی ملک انہی چیلنجز سے دوچار رہے گا۔ اس بیان کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں، ماہرین، سابق بیوروکریٹس اور پالیسی ساز حلقوں نے انتظامی اصلاحات اور ریاستی ڈھانچے پر ازسرِنو غور کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے رہنما بھی اس موضوع پر کم و بیش یکساں مؤقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی انتظامی اصلاحات کی حمایت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے اس مطالبے کی تائید نے واضح کیا ہے کہ معاملہ محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال میں تبدیل ہو چکا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی تجویز کوئی نئی بات نہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، پوٹھوہار، کراچی اور دیگر علاقوں کے حوالے سے مختلف ادوار میں مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، مگر ان پر کبھی جامع قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ تاہم موجودہ بحث صرف نئے صوبوں تک محدود نہیں بلکہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ انتظامی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں خدمات فراہم کر پا رہا ہے؟
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کا موجودہ صوبائی ڈھانچہ اس دور میں تشکیل پایا جب ملک کی آبادی تقریباً چھ سے سات کروڑ تھی، جبکہ آج یہ تعداد 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی میں اس غیر معمولی اضافے کے باوجود صوبائی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں نہیں آئیں، جس کے باعث تعلیم، صحت، امن و امان، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی جیسے شعبوں میں چیلنجز بڑھتے گئے۔
پنجاب، جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ کے قریب ہے، دنیا کے کئی ممالک سے بڑا انتظامی یونٹ بن چکا ہے۔ اسی طرح سندھ میں کراچی جیسے میگا سٹی، بلوچستان کے وسیع جغرافیے اور خیبر پختونخوا کے دشوار گزار علاقوں کی الگ الگ انتظامی ضروریات اس بحث کو مزید اہم بنا دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوال صرف نئے صوبے بنانے کا نہیں بلکہ اس امر کا ہے کہ ریاست عوام تک خدمات کس حد تک مؤثر انداز میں پہنچا رہی ہے۔
بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ گورننس کا بنیادی مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کی غیر مساوی تقسیم، کمزور بلدیاتی نظام، محدود مالی خودمختاری، بیوروکریسی کی پیچیدگی اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں۔ اگر مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات، وسائل اور قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا تو صرف نئے انتظامی یونٹس قائم کر دینے سے بھی عوامی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوں گے۔
دنیا کے متعدد وفاقی ممالک وقت کے ساتھ اپنی انتظامی ساخت میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں تاکہ آبادی، معیشت اور علاقائی ضروریات کے مطابق حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں بھی اگر مستقبل میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے لیے آئینی ترامیم، متعلقہ صوبوں کی رضامندی، قومی مالیاتی کمیشن، وسائل کی تقسیم، سینیٹ میں نمائندگی اور دیگر آئینی معاملات پر وسیع قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔
اسی تناظر میں متعدد ماہرین یہ تجویز دیتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے تحت ایک قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات قائم کیا جائے، جس میں آئینی، انتظامی، معاشی اور شماریاتی ماہرین، سابق سول سرونٹس، تمام صوبوں کے نمائندے اور سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ یہ کمیشن جذبات اور سیاسی نعروں سے بالاتر ہو کر اس بات کا تعین کرے کہ پاکستان کے لیے کون سا انتظامی ماڈل زیادہ مؤثر، پائیدار اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مضبوط وفاق کا مطلب صرف ایک طاقتور مرکز نہیں بلکہ ایسا نظامِ حکمرانی ہے جو اختیارات کو عوام کے قریب لے جائے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھے اور ریاستی اداروں کو زیادہ جوابدہ بنائے۔ یہی وہ بحث ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستان کی سیاسی اور انتظامی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔
