اسد عمر سیکرٹری جنرل، رکن کور کمیٹی کے عہدوں سے مستعفی

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے سیکرٹری جنرل اور رکن کور کمیٹی کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

آج اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد سے سینئر رہنما اسد عمر کے پارٹی چھوڑنے کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، اسلام آباد کے پریس کلب میں صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ موجودہ حالات پارٹی عہدوں پر ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ عمران خان تحریک انصاف کی روح ہیں، ان کے اچھے فیصلوں نے پارٹی کو مقبول بنایا اب ان کے فیصلوں سے کیا تبدیلی آئی اس کا فیصلہ پاکستانی عوام کریں گے۔

اڈیالہ جیل سے اپنی رہائی کے بعد اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ نو مئی کے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور اب نو مئی کے بعد جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اب میں اس قابل نہیں رہا کہ میں قیادت کر سکوں، میں سیکریٹری جنرل اور کور کمیٹی سے مستعفی ہوتا ہوں۔‘ ان کے مطابق میں نے 17 مہینے تک میں نے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری میں نے نبھائی ہے۔

تاہم دیگر رہنماؤں کے برعکس اسد عمر نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ پچھلے 13 ماہ جو کچھ ہوا اس کے اکیلے عمران خان ذمہ دار نہیں ہیں۔ عمران خان کے فیصلوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عوام نے کرنے ہے کہ عمران خان نے صحیح فیصلے کیے یا نہیں۔

اسد عمر کے مطابق نو مئی کو سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہوئی کہ ایسی تنصیبات پر حملہ کیا گیا جن کا تعلق فوج سے ہے۔ انھوں نے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں منظم اور اصولوں پر کاربند فوج نہ ہوتی تو ہمارا حال بھی دیگر اسلامی ممالک کی طرح ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم نہ بھی رہیں تو فوج رہے۔

اسد عمر نے کہا کہ نو مئی کے واقعات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔ ان کے مطابق ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق بے گناہ لوگوں کو جلد سے جلد چھوڑنا بھی ضروری ہے۔ اسد عمر کے مطابق اس دن کے مناظر اس وجہ سے بھی میرے دل کو زیادہ لگے کیونکہ میرا تین نسلوں سے فوج سے تعلق ہے۔

ان کے مطابق مجھے فخر ہے کہ سنہ 1965 سے لے کر دہشتگردی کے خلاف جنگ تک میرے رشتہ داروں نے اپنی زندگی داؤ پر نہ لگائی ہو۔ اسد عمر کے مطابق صرف نو مئی کی بات ہی نہیں ہے۔ اس وقت ہم ملک میں کدھر لے کر آ گئے ہیں۔ 15 دن کی قید تنہائی میں یہ سوچا جیل میں بیٹھ کر کہ عدلیہ میں تقسیم ہے، عدلیہ فیصلے کرتی ہے مگر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بہت خطرناک صورتحال ہے کہ عدلیہ کی تقسیم کی وجہ سے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

اسد عمر کے مطابق اس کے بعد فوج سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد تحریک انصاف اور پھر پی ڈی ایم سٹیک ہولڈر ہے۔ اسد عمر کے مطابق اس وقت اگر الیکشن ہو جائے تو سندھ اور بلوچستان میں پی ڈی ایم جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف جیتے گی۔ ان کے مطابق سب سے بڑے سٹیک ہولڈر پاکستان کے عوام ہیں، جنھیں گذشتہ 13 ماہ سے بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں اب ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان حالات سے ملک کو نکالیں۔ ان کے مطابق سنہ 1971 کے بعد اب دوبارہ ایسے خطرناک حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے صدر مملکت کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے۔‘

Back to top button