تحریک طالبان اورحکومت کے مابین بڑا بریک تھرو کیسے ہوا؟

پاکستانی حکام کی جانب سے تحریک طالبان کے 60 فیصد مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے اور قبائلی سرحدی علاقے میں دو دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ 30 مئی کی شب ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کابل میں تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پائی۔ ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے ‘اسلامی امارات افغانستان کے قائم مقام وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند کے ساتھ ان کے دفتر میں علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں نرم گو اور عمر رسیدہ رہنما نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بات چیت اور جنگ بندی کو بغیر کسی حتمی تاریخ کے جاری رہنے دیا جائے۔ اس کے بعد ہونے والے مشترکہ اجلاس میں فریقین نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے اور اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جس کے سبب پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ملک میں بڑے پیمانے پر ہزاروں لوگوں کی نقل مکانی اور ہلاکتیں ہوئیں۔
کیا چور ورلڈ کپ ٹرافی چُرا کر چیمپئن قرار پا سکتا ہے؟
یاد رہے کہ ترجمان آئی ای اے ذبیح اللہ مجاہد اور ترجمان ٹی ٹی پی محمد خراسانی نے رواں ماہ کے آغاز میں جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک طالبان کے ساٹھ فیصد مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد ان کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع پر اتفاق ہوا۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ پاکستانی حکام نے تحریک طالبان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے دو گرفتار سینئر کمانڈروں کو رہا کر کے افغان طالبان کے حوالے کردیا تھا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں ہونے والے مذاکرات ایک سٹیج پر ناکامی کا شکار ہونے کے بعد ٹوٹنے جارہے تھے لیکن مذاکرات کے مرکزی ثالث اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے میں معاونت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات مان کر اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان سمیت دو اہم عسکریت پسند کمانڈروں کی رہائی اور صدارتی معافی بھی ان مطالبات میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کے لیے معاوضہ، ملاکنڈ میں شرعی ضابطے کا نفاذ، سرحدوں سے فوج کا انخلا اور فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام واپس لینا ٹی ٹی پی کی جانب سے اہم مطالبات تھے جن میں سے کچھ تسلیم کر لیے گئے ہیں اور کچھ پر ابھی مذاکرات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن 2009 اب بھی نافذ العمل ہے، یہ قانون مولانا صوفی محمد مرحوم کے ساتھ مذاکرات کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان کو ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن دو بڑے مسائل اصل چیلنج رہے جن میں فاٹا کے انضمام کی واپسی اور ٹی ٹی پی کو ایک مسلح عسکریت پسند گروپ کے طور پر ختم کرنا شامل ہے۔ حکومت پاکستان کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والا انضمام قابل بحث نہیں اور قبائلی لوگ اس کے اصل اور اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایسی دستاویزات لائی گئیں جو کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قبائلی عوام کے ساتھ ایک آزاد پاکستان میں ان کی خودمختاری کی ضمانت کے وعدے پر مشتمل تھیں۔ انہیں بتایا گیا کہ جس انضمام کو وہ اپنے رواج کے خلاف سمجھتے ہیں اسے تبدیل کرنے کا مطلب فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی جانب واپسی ہوگا جو برطانوی سلطنت کا ایک حصہ تھا اور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے ‘اسلامی’ سمجھا جا سکتا ہو۔
اسکے علاوہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 25ویں آئینی ترمیم مارچ 2022 سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک بڑے بینچ کے سامنے زیر التوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کا بطور ایک مسلح تنظیم خاتمہ ایک اور اہم مسئلہ ہے، حکومتی وفد نے واضح کیا کہ کسی بھی مسلح گروپ کو پاکستان کی حدود میں داخل ہونے یا کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس وقت ایک پاکستانی قبائلی جرگہ کابل میں ٹی ٹی پی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے جس کا اگلا دور جون کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کے مابین جنگ بندی مذاکرات فائنل ہونے تک جاری رہتی ہے یا اس سے پہلے ٹوٹ جاتی ہے؟
