حق دو تحریک نے گوادر میں بلدیاتی الیکشن کیسے جیتا؟

مولوی ہدایت الرحمان کی زیر قیادت چلنے والی ‘حق دو تحریک’ نے گوادر کے بلدیاتی الیکشن میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے بلوچستان کے شہر گوادر میں اپنے مطالبات کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مظاہرہ باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کریگا۔ شاید بلوچستان کے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ گوادر میں مقامی لوگوں کے مسائل کے لئے احتجاجی دھرنا دینے والے مولانا ہدایت الرحمان نہ صرف قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پر چھا جائیں گے بلکہ بلدیاتی انتخابات میں بھی سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عبداللہ مہمند کے مطابق حق دو تحریک کی کامیابی بلوچستان کے مقامی قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لئے ایک دھچکا ہے اور لوگوں نے روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر عام لوگوں کی تحریک کو گوادر میں کامیاب کرایا۔ بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں مکران ڈویژن کے اہم شہر گوادر میں مقامی لوگوں کی تحریک ’حق دو تحریک‘ نے 157 میں سے 56 حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں حق دو تحریک نے 56 حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں قوم پرست سیاسی جماعتوں کو عوام نے اس بار پہلے کی طرح ووٹ نہیں دیا اور ان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی بحران میں بھارتی کس کے ساتھ ہیں؟
وہ کہتے ہیں بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام ف، حق دو تحریک سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبران کی زیادہ تعداد میں کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
بلوچستان "حق دو تحریک” اور اس تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمان نومبر 2021 میں منظر عام پر آئے جب انھوں نے گوادر میں اپنے حقوق کے لئے 32 روزہ دھرنا دیا اور بلوچستان حکومت کو بعد میں ان سے معاہدہ کرنا پڑا جس کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کیا گیا۔ حق دو تحریک کے دیگر مطالبات میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے سمیت مظاہرین پر مقدمات درج نہ کرنے کے مطالبے سمیت دیگر مطالبات بھی شامل تھے۔
بلوچستان کے قوم پرست سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی ارباز شاہ کہتے ہیں کہ حق دو تحریک نے پورے بلوچستان میں تو کامیابی حاصل نہیں کی مگر گوادر جیسے تزویراتی شہر میں اس کی کامیابی بلوچستان کے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لئے ایک دھچکا ضرور ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے سیاسی جدوجہد میں گوادر کے لوگوں کے مسائل کی اس طرح نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دی گئی۔ ارباز شاہ کے مطابق جب "حق دو تحریک” شروع ہوئی تو انھوں نے مقامی لوگوں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کیا جیسے ماہی گیروں کے مسائل اور ان کے مستقبل کا سوال اٹھایا، لاپتہ افراد اور چیک پوسٹوں پر ہراساں کرنے سمیت دیگر ایسے مسائل کی نشاندہی کی جو مقامی لوگوں کے اصل مسائل تھے۔ وہ کہتے ہیں حق دو تحریک نے ان مسائل پر نہ صرف دھرنا دیا بلکہ حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط بھی کئے جن کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں مقامی لوگوں نے باہر نکل کر اس تحریک کو ووٹ دیا۔
ایک سوال پر کہ کیا آنے والے عام انتخابات میں بھی یہ تحریک گوادر سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے پر جواب دیتے ہوئے ارباز شاہ نے کہا یقیناً اس کے اثرات عام انتخابات پر بھی ہونگے اور حق دو تحریک عام انتخابات میں یہاں سے کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ اس احتجاجی دھرنے میں پہلی بار بلوچستان میں خواتین بڑی تعداد میں ریلیوں میں شریک ہوئی اور انھوں نے بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی جس کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں بڑی پذیرائی ملی۔ بلوچستان کے جلاوطن صحافی کیا بلوچ نے گوادر میں بلدیاتی انتخابات میں "حق دو تحریک”کی کامیابی پر ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "بلوچستان سمیت خاص طور پر گوادر میں آج ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے باہر آئے اور مولانا کے حق دو تحریک نے تن تنہا 4 جماعتی اتحاد کو گوادر میں شکست دی۔ انھوں نے کہا کہ "قوم پرستوں کی گوادر میں ناکامی کی وجہ انکی ناقص کارکردگی اور عوامی مسائل میں عدم دلچسپی ہے۔ کیا بلوچ نے لکھا کہ اس تحریک کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ گوادر سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے منتخب نمائندے میر حمل کلمتی ہیں جو 2013 سے اسمبلی کے رکن ہیں پر وہ زیادہ وقت اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ اور مسقط میں گزارتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن میں یہ تحریک بلوچ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔
