گورنر بننے والے بلیغ سرائیکی صوبے کے حامی کیوں نہیں؟

مسلم لیگ نون کی جانب سے جنوبی پنجاب کی بہاولپور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بلیغ الرحمان کو گورنر پنجاب بنانے کا بنیادی مقصد تو جنوبی پنجاب کو نمائندگی دینا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے بڑوں کی طرح نہ تو بلیغ اور نہ ہی ان کے والد کبھی سرائیکی صوبے کی آواز بنے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کی نون لیگ سے وابستگی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرائیکی صوبے کی پہلی طاقت ور آواز بلیغ الرحمن کے خاندان کی جانب سے ہی بلند کی گئی تھی، مگر بلیغ یا ان کے والد کی جانب سے کبھی سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اظہار نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ آخرکار 30 مئی کو صدر عارف علوی نے مسلم لیگ ن کے رہنما بلیغ الرحمن کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی کی منظوری دے دی جس کے بعد انھوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔بلیغ الرحمن کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی سے قبل اس عہدے پر خاصی سیاسی کشمکش جاری رہی۔ تحریکِ انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل چودھری سرور کو گورنر کے عہدے سے ہٹا کر عمر سرفراز چیمہ کو نیا گورنر تعینات کیاتھا۔ عمر سرفراز چیمہ نے حمزہ شہباز سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا حلف لینے سے انکار کر دیا تھا اور یوں پنجاب میں ایک نئے سیاسی بحران نے جنم لیا تھا۔ نو مئی کو وفاقی حکومت نے عمر سرفراز چیمہ کو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن صدرِ نے انھیں ہٹانے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ بعد ازاں عمر چیمہ نے عدالت سے اپنی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی کی تھی۔ اب جب بلیغ الرحمن نے گورنر پنجاب کا حلف اٹھا لیا ہے تو سیاسی سطح پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیاست میں موجودہ بھونچال کسی طور تھم سکتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کرنے کی وجہ سامنے آ گئی

نئے گورنر پنجاب کا خاندان انڈیا سے 1726 میں نقل مکانی کر کے بہاولپور میں دریائے ستلج کے کنارے چھوٹی سی بستی ’جھوک جھاونڑ‘ میں آ کر مقیم ہوا تھا۔ یہ بستی بعد میں بہاولپور شہر میں تبدیل ہوئی۔ اس خاندان کے بزرگ مولوی غلام رسول کے سب سے بڑے بیٹے سیٹھ عبد الرحمن 1969 میں تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے نمایاں روح رواں تھے جن کو سبی جیل میں قید بھی کاٹنا پڑی۔ بلیغ الرحمن کے خاندان کا سیاست کا سفر ان ہی سے شروع ہوتا ہے۔

بہاولپور صوبے کی تحریک کی ناکامی کے بعد سیٹھ عبید الرحمن نے سرائیکی صوبے کی آواز کا ساتھ دیا لیکن پاکستان کے پہلے عام انتخابات، 1970 کا الیکشن، میں وہ جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ بہاولپور کی مقامی سیاست میں البتہ ان کا نام زندہ رہا وہ چاہے ایوب خان کا دور ہو یا پھر جنرل ضیا الحق کا مارشل لا۔ سیٹھ عبید الرحمن اور بلیغ الرحمن کے دادا ڈاکٹر جمیل الرحمان رشتہ میں چچازاد تھے۔ ڈاکٹر جمیل الرحمن کے بڑے بیٹے محمد عقیل الرحمٰن، بلیغ الرحمٰن کے والد تھے جن کی وفات 2011 میں ہوئی۔

بلیغ الرحمن کے والد عقیل الرحمن کی سیاست کا آغاز 90 کی دہائی میں ہوا۔ وہ حاصل پور ضلع بہاولپور کی قومی نشست پر ایم این اے رہے اور انھوں نے مسلم لیگ ن سے وابستگی اختیار کی۔ عقیل الرحمن کے بعد ان کے بیٹے بلیغ الرحمن نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور بہاولپور کے شہری حلقہ سے پہلا الیکشن 2008 میں لڑا۔ تب یہ حلقہ این اے 185 تھا۔ بلیغ 2013 کے الیکشن میں بھی اسی حلقہ سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ جب شاہد خاقان عباسی وزیرِ اعظم بنے تو بلیغ الرحمن ان کی کابینہ میں وفاقی وزیر رہے ہیں۔2018 کے انتخابات میں بلیغ الرحمن حلقہ این اے 170 سے پی ٹی آئی امیدوار محمد فاروق اعظم ملک سے لگ بھگ دس ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست کھا بیٹھے۔مختلف سیاسی ادوار میں بلیغ الرحمن فیملی مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی میں نہیں گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بلیغ شریف خاندان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

بلیغ کے چچا الطاف الرحمن کے مطابق ’بلیغ الرحمن، نواز شریف کے قریبی ساتھی ہیں۔ گذشتہ دِنوں جب مسلم لیگ ن نے بہاولپور میں جلسہ کیا تو اس میں حمزہ شہباز نے کہا تھا کہ نواز شریف کے حکم پر بہاولپور سے بلیغ الرحمن کو گورنر پنجاب کے طورپر نامزد کیا گیا ہے۔‘ بلیغ الرحمن کی ابتدائی تعلیم صادق پبلک سکول کی ہے۔ بعد میں یہ انجنیئرنگ کی تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے۔ سیاست سے پہلے یہ کاروبار سے وابستہ رہے۔ یہ کاروباری شخصیت کے ساتھ ساتھ، درمیانے درجے کے زمیندار بھی ہیں۔ ان کا بہاولپور میں گھر بھی ہے اور اسلام آباد میں بھی لیکن زیادہ وقت بہاولپور میں گزارتے ہیں۔

بلیغ کے حلقے سے تعلق رکھنے والے بعض سیاسی کارکن اور صحافیوں سے جب بات کی گئی تو سب کی متفقہ رائے یہ تھی کہ ’بلیغ الرحمن، ملنسار، شریف اور مذہب میں دلچسپی رکھنے والی شخصیت ہیں۔ حلقے اور علاقے کے لوگوں کی خوشی و غمی میں شرکت کرتے ہیں۔‘

’ان کے دکھ درد بانٹتے ہیں۔ حلقے میں ان کا ذاتی ووٹ بینک بھی ہے اور اس حلقے میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک بھی ہے، جو اِن کی جیت کا سبب بنتا ہے۔‘

الطاف الرحمن کہتے ہیں کہ ’ہمارا خاندان مذہبی خاندان ہے۔ ہمارے بزرگوں کے ناموں کے ساتھ ’مولوی‘ لگتا تھا۔ بلیغ الرحمن طبعاً منکسر المزاج ہیں۔‘ 2019 میں بلیغ کا بیٹا اور اہلیہ فیصل آباد موٹروے پر کار حادثے میں وفات پا گئے تھے۔ اس وقت ان کے بیٹے کی عمر لگ بھگ 11 برس تھی۔ بلیغ الرحمن کی دو شادیاں ہیں۔ حادثے کا شکار ہو کر وفات پا جانے والی اہلیہ سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بلیغ الرحمن کے چچا، الطاف الرحمن بتاتے ہیں ’اس سانحہ نے بلیغ کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنے خاندان کی پہلی سیاسی شخصیت کے برعکس بلیغ الرحمن اور ان کے والد سرائیکی صوبے کی کبھی آواز نہیں بنے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو مسلم لیگ ن سے وابستگی قرار دی جا سکتی ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی شاکر حسین شاکر کہتے ہیں ’سرائیکی صوبے کی پہلی طاقت ور آواز بلیغ الرحمن کے خاندان کی جانب سے ہی بلند کی گئی تھی، مگر بلیغ الرحمن کی جانب سے کبھی سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اظہار نہیں ہوا۔‘ بہاول پور سے تعلق رکھنے والے مصنف عبدالباسط بھٹی کہتے ہیں کہ ’پہلا شخص عبید الرحمن بہاولپوری تھا جس نے سرائیکی صوبہ کی آواز اٹھائی۔ بہاول پور کے مشہور ’سرائیکی چوک‘ کا نام بھی عبید الرحمن نے رکھا تھا، مگر بلیغ الرحمن اور ان کے والد کا مسلم لیگ ن سے تعلق ہے، ان کی جانب سے اس ضمن میں کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔‘ بلیغ کے چچا الطاف الرحمن تسلیم کرتے ہیں کہ ’بلیغ الرحمن کے والد عقیل الرحمن سرائیکی صوبے کی تحریک میں شامل نہیں رہے۔ یہ تحریک صوبہ بہاولپور بحالی تک ہی محدود رہی۔

Back to top button