پاکستانی پاسپورٹ پراسرائیل کا سفر جرم نہیں ہے؟

حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کے صحافی رکن احمد قریشی نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا اور ایسا کرنا جرم نہیں ہے۔
قریشی نے بتایا کہ ان کے وفد نے اسرائیل کے صدر سے 45 منٹ تک ملاقات کی،
جس میں پہلی بار کسی اسرائیلی حکمران نے قائد اعظم کے پورٹریٹ کو بھی تصویر میں جگہ دی۔ احمد قریشی کے مطابق وہ جلد اس دورے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے اور اہم جگہوں کے دوروں اور اہم شخصیات سے ملاقاتوں کی تصاویر بھی جاری کریں گے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر اس وقت پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کے وفد کے دورہ اسرائیل پر گرما گرم بحث جاری ہے جس کی وجہ اسرائیلی صدر کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے اس وفد سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’حیرت انگیز تجربہ‘ اور ’بہترین تبدیلی‘ قرار دیا تھا۔ مئی کے اوائل میں اس دورے پر جانے والے وفد میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی احمد قریشی اور سماجی کارکن انیلہ علی بھی شامل تھیں، جو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ اس وفد کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس سمیت اہم مقامات کے دورے کیے اور اسرائیلی صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔ یاد رہے کہ اس دورے کی منصوبہ بندی عمران کے دور حکومت میں ہوئی تھی۔
عمران خان اپنی دوستیاں اور رشتے کیوں نہیں نبھا پاتے؟
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دورے پر باقاعدہ اعتراضات تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی طرف سے سامنے آئے تھے۔ شیریں مزاری نے اس دورے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صحافی احمد قریشی اور سماجی کارکن انیلہ پر سخت تنقید کی تھی۔ یاد رہے کہ احمد قریشی تب پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ تھے جنہیں اب نئی حکومت نے اسرائیل کا دورہ کرنے پر برخاست کر دیا ہے۔ یوں تو انیلہ علی کا تعلق امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے مگر شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ میں ایک پرانی تصویر کی بنیاد پر ان کا تعلق مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز سے بھی جوڑا۔
شیریں مزاری نے پاکستانی فوج کے ترجمان کو بھی اپنی ایک ایسی ہی تنقیدی ٹویٹ میں مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ احمد قریشی کے ذریعے عمران خان کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی صدر کے حالیہ بیان کے بعد شیریں مزاری نے ایک بار پھر ٹوئٹر پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’امپورٹڈ حکومت اور سازش میں ملوث ان کے دیگر حواریوں کی جانب سے تبدیلی سرکار کی سازش کے تحت امریکہ سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا ہو گیا! شرمناک غلامی۔‘
اسرائیلی صدر کی جانب سے پاکستانی نژاد امریکیوں کے دورہ اسرائیل کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں صحافی احمد قریشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں اس بارے میں بھی سوال کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ ہدایات واضح طور پر درج ہیں کہ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر پاکستانی شہری اسرائیل کیسے پہنچے۔
دوسری جانب تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے بہت سے صارفین اس دورے کو ایک دوسرے کی جماعت پر الزام تراشی کے طور پر استعمال کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس دورے پر تنقید کی حالیہ لہر کے بعد وفد میں شامل انیلہ علی نے خاصے غصے کا اظہار اور عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارا گروپ پاکستانی امریکی بین المذاہب خواتین رہنماؤں پر مشتمل تھا۔ برائے مہربانی پاکستانیوں میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے ہمیں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کریں۔ اپنی سیاسی لڑائیاں خود لڑیں۔ جیسا کہ ملک ریاض ٹیپ، ڈاکٹر مزاری کا معاملہ اور پی ٹی آئی مارچ کی ناکامی۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’امریکی مسلم اور امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے پاکستان، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد اسرائیل اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں میں امن پیدا کیا جا سکے۔ غلط معلومات مت پھیلائیں۔ اللہ سچائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔‘
رہنما ایم کیو ایم رضا ہارون نے اس دورے کے حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اس دورے پر جانے والے ایک پاکستانی یہودی کو پاسپورٹ عمران خان کی حکومت میں دیا گیا۔‘ اس ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’سابقہ حکومت نے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی مذہب کے پیروکار کو مذہبی بنیادوں پر اسرائیل جانے کی اجازت دی لیکن احمد قریشی اور انیلہ علی وغیرہ کو عمران حکومت نے اجازت نہیں دی۔ وہ ذاتی حیثیت میں امریکہ سے اسرائیل گئے۔‘
تصور نامی صارف نے اس وفد میں شامل انیلہ علی کی رہنما مسلم لیگ نون مریم نواز اور احسن اقبال سے ملاقاتوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا نون لیگ وضاحت کرے گی اس وفد میں شامل اراکین کا اس جماعت سے کیا تعلق ہے؟‘
لیکن جہاں بہت سے صارفین نے احمد قریشی کو ’اسرائیلی ایجنٹ‘ قرار دیا تو وہیں کچھ ٹویٹس صحافی احمد قریشی کے اس دورے کے دفاع میں بھی نظر آئیں۔ ایک صارف نے لکھا: ’اسرائیل کا دورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ پاکستان کو اسرائیل سے اچھے تعلقات قائم کرنے چاہییں اور اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہمارے اسرائیل سے اچھے تعلقات نہیں ہوں گے تو ہم اس تنازع کو کیسے حل کریں گے۔‘ پاکستان میں اسرائیل کے خلاف پائی جانی والی رائے کے ہوتے ہوئے ہر حکومت کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور اگر حکمران اس حوالے سے کوئی نرمی برتیں تو انھیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں پاکستانی حکام پر خفیہ طور پر اسرائیل سے روابط کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ پاکستان میں اسرائیل سے متعلق تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی تجاویز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئیں تو عوام نے مشرف پر بھی اسرائیل سے دوستی کرنے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔تاہم صحافی احمد قریشی نے بتایا کہ وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر عام شہری کی حیثیت سے اسرائیل گئے اور ان کے اس دورے سے حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں۔
شیریں مزاری کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری ٹی وی کے ملازم نہیں بلکہ ریاست نام کے ایک پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں اور ہر پروگرام کا انھیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں احمد قریشی نے بتایا کہ وہ کویت میں پیدا ہوئے مگر وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کے مطابق اس دورے میں ان کے ساتھ ایک یہودی پاکستانی بھی شامل تھے۔ احمد قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر انٹری اور ایگزٹ کی مہر ثبت نہیں کی جاتی باقی اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل میں ہزاروں پاکستان جا چکے ہیں اور وہاں ان کی بڑی تعداد پاکستانی پاسپورٹ پر ملازمت بھی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کا دورہ کرنا جرم نہیں اور نہ کبھی پاکستان نے ماضی میں کسی کو اس بنیاد پر سزا سنائی ہے۔
تاہم شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹس میں اس دورے کے مقاصد پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل نے پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو ختم کیا۔ جب اس دورے کے مقاصد سے متعلق سوال کیا گیا تو احمد قریشی نے بتایا کہ اس وفد میں امریکہ میں ڈیموکریٹک اور رپبلکن جماعتوں کے حامی پاکستانی بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق اس وفد کا مقصد امن کے راستے تلاش کرنا تھا۔
احمد قریشی کے مطابق اس دورے کے لیے پاکستانی امریکن کمیونٹی نے فنڈنگ کی۔ ان کے مطابق دبئی کی شراکا نامی تنظیم ان کی اس دورے میں معاون ہے، جسے مختلف ممالک سے ان پرامن مقاصد کے لیے فنڈنگ ملتی ہے۔احمد قریشی نے بتایا کہ اسرائیل کے اس دورے سے فلسطینیوں کو کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی اسرائیلیوں نے کسی ناراضگی کا اظہار کیا۔
