دونوں خاندان بات سمجھ نہیں رہے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ان دونوں گھروں کی وارنٹی ختم ہو چکی ہے۔ ان کا جاہ و جلال ختم نہیں ہو رہا لیکن موجودہ ملے جلے نظام میں ان کی افادیت وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ حالات کے تقاضے اب اور ہیں جنہیں سمجھنے میں انہیں مشکل پیش آ رہی ہے۔ پہلے تو باہمی ضرورت کے تحت یہ بندوبست پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اولین مقصد فتنہ 804کا کچھ کرنا تھا۔ باجوہ کی رہنمائی اور باقی جماعتوں کے ووٹوں سے عمران خان کی چھٹی کرائی گئی اور شہباز شریف کو سامنے رکھتے ہوئے نئی حکومت سازی ہوئی۔ ووٹوں کی اپنی اہمیت تھی‘ اُن کے بغیر رجیم چینج کا عمل پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن پھر 2024ء کے انتخابات آئے جن میں اصلی ووٹوں کی اتنی حیثیت نہ رہی جتنی کہ فارم 47 کے جادو کی۔ یعنی 2024ء کے الیکشن میں یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ بنائی گئی حکومتوں کی کوئی حیثیت ہے تو محض فارم 47کی وجہ سے۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر اب تو برملا طعنے دیے جا رہے ہیں کہ وزرا اور کابینہ فارم 47کی پیداوار ہیں تو جنابِ صدرآپ بھی تو اسی کرشمہ سازی کے مرہونِ منت ہیں۔ جو اطاعت اور فرمانبرداری اس حقیقت کی وجہ سے حکومتی جماعتوں پر لازم تھی اُس کا اظہار اور مظاہرہ بھی ہوتا رہا۔ مدح سرا میں پیچھے نہ رہے۔ وقت بے وقت کی تعریف کے استاد ہو گئے۔ استاد بھی کیا ہونا تھا کیونکہ مدح سرائی میں (ن) لیگ ویسے ہی خاصی مہارت رکھتی تھی۔ صدر اور وزیراعظم اپنے عہدوں پر موجود رہے لیکن حکومتی درجہ بندی کی اصلیت سب خاص و عام پر واضح تھی۔ تب سے لے کر اب تک مزید پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے اور اب نئی حقیقتیں اور نئی ضروریات سامنے آ رہی ہیں۔ انہیں سمجھنے میں دِقت پیش آ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومتی ایوانوں میں ایک بحران کا تصور پیدا ہو رہا ہے۔ حالانکہ اصل بحران سمجھنے کا ہے نہ کہ کسی اور چیز کا۔
محسن نقوی نظام کے زمین بوس ہونے کی بات کر رہے ہیں‘ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ حکومتی کارکردگی بہتر ہونی چاہیے یا مریم نواز کو اتنا مہنگا جہاز نہیں خریدنا چاہیے تھا۔ وہ بات بالکل مختلف کر رہے ہیں کہ آپ کی عقلوں پر پردے کیوں پڑ گئے ہیں اور جو حکمرانی کے اب نئے تقاضے ہیں اُنہیں سمجھنے میں آپ کو اتنی مشکل کیوں پیش آ رہی ہے۔ محسن نقوی کو ئی اصلاحات کا پیکیج لیے نہیں پھر رہے‘ اس نظام کے زمین بوس ہونے کی بات کررہے ہیں جو فارم 47کی پیداوار ہے اور جس کی وجہ سے تمام موجودہ حکومتیں معرضِ وجود میں آئیں اور بس چلتی جا رہی ہیں۔ محسن نقوی کا اشارہ اس طرف ہے کہ جناب اپنی پوزیشن سمجھیے‘ اس بات کا ادراک رکھیے کہ جن کرسیوں پر براجمان ہیں کس کی وجہ اور کس کی اشیرباد سے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ادراک کا ثبوت تبھی مل سکتا ہے کہ دونوں خاندان مل کر حکومتی درجہ بندی میں تبدیلی لانے کی نہ صرف حامی بھریں بلکہ مؤدبانہ التجا کریں کہ حضور جو فرما رہے ہیں‘ اسی میں قوم و ملک کی بہتری ہے۔
دیکھا جائے تو ہرزاویے سے محسن نقوی کی بات درست ہے۔ اوپر سے مہربانی ہوئی تو یہ سارے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ جہاز بھی پنجاب میں تب ہی خریدا گیا جب اقتدار میں بیٹھے تھے۔ فارم 47کی مہربانی نہ ہوتی تو کہاں کے منصب اور کہاں کے جہاز ۔ لیگی وزرا جو ایوانِ صدر کو طعنے دے رہے ہیں کہ ہم فارم 47ء کی پیداوار ہیں‘ آپ بھی تو ہماری کشتی میں سوار ہیں‘ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ اس سے کیا انکار کیا جاسکتا ہے؟ اس نظام کا سارا زور سارا سریا سیمنٹ کس کی بدولت ہے سب کومعلوم ہے۔ علاقائی سفارتکاری میں کس کی حیثیت پیش پیش ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے نہیں تو انہیں کون پوچھے‘ جناب اسحاق ڈار کی کون سی پذیرائی ہو۔ ملکی صورتحال جو بنی ہوئی ہے اُس کا سامنا اگر کیا جا رہا ہے تو کس ادارے کی طرف سے ؟ دہشت گردی اور شورش کے خلاف جنگ کا بیشتر بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ اس جنگ میں وزیراعظم کا کیا کردار ہے اور صدرِ محترم کی کون سی حصہ داری ؟ وزیراعظم تو شورش زدہ علاقوں میں کبھی گئے نہیں‘ باہر کے دوروں میں زیادہ مصروف رہے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ سب کچھ کرنا ہم نے‘ فارم 47 کی مدد آپ کوپہنچانی ‘نہیں تو آپ بڑے لیڈر اپنی سیٹیں بھی ہار گئے تھے۔ عیاشی کرلی اقتدار کے مزے لے لیے اب حقیقت کو سمجھیں اور اُسی طریقے سے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کریں۔ آپ کی چھٹی نہیں کرائی جا رہی لیکن رموزِ سلطنت تو سمجھیے۔
اشارہ اوپر سے یہ ہے کہ سب کچھ ہو جائے لیکن خوش اسلوبی سے ۔ کہیں کسی جھٹکے کی ضرورت نہ پڑے۔ جو ایک مغالطہ آئین اور قانون کا موجود ہے وہ قائم رہے۔اسمبلیاں رہیں گی‘ وزیراعظم بھی ہوگا لیکن اپنی نئی حیثیت کے مطابق۔ اعلیٰ تصورات میں تبدیلی کا خاکہ یہ ہے۔
جو اصل بحران ملک کو درپیش ہے اُس کی نوعیت کچھ اور ہے۔ ہر طر ف ایک الگ فتنہ ہے۔ کے پی میں فتنہ الخوارج‘ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان۔ سیاسی میدان میں فتنہ 804۔ جو صورتحال کشمیر کی ہے اُسے شاید نیا نام دینا پڑے۔ معیشت کی الگ کہانی ہے۔ مانگے تانگے کے بغیر قرضوں اور اُن پر بنے سود کی اقساط ادا نہ ہوسکیں۔ ایسے میں انتظامی ڈھانچے پر یہ جو فالتو کی سواریاں بیٹھی ہیں ان کا بوجھ کون اٹھائے؟ یہ ہے سوچ اس اعلان کے پیچھے کہ نظام زمین بوس ہو گیا ہے۔ نظام تو وہی رہے گا ‘ اس میں کون سی تبدیلی آنی ہے لیکن فالتو سواریوں کا بوجھ اب شد ت سے محسوس ہو رہا ہے۔ شہباز شریف سمجھدار انسان ہیں۔ اُن کی حد تک شاید کوئی د قت پیش نہ آئے۔ مشرف کے زمانے میں بھی کچھ درمیانی راستہ نکالنے کے حامی تھے۔ مسئلہ رہبرِ جماعت کی طرف سے پیش ہو سکتا ہے جنہیں اپنی عوامی حیثیت کا زُعم کبھی ستاتا ہے۔ مسئلہ ایوانِ صدر کا بھی ہے۔ خواہ مخواہ کا رعب اور آسائشیں کون چھوڑنا چاہتا ہے۔ سفارتکاری کا اصل معرکہ تو یہاں دیکھنا ہے کہ صدرمحترم اور وزیراعظم اس نئے بندوبست کے اعلیٰ مقاصد کے حق میں کس انداز او ر کس تندہی سے قائل ہوتے ہیں۔
