کیا واقعی امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ ہونے والا ہے؟

دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران، عمان اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ جلد ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس سے نہ صرف جہاز رانی بحال ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آئے گا۔ ادھر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور اسٹاک مارکیٹوں میں ریکارڈ تیزی نے بھی اس امید کو مزید تقویت دی ہے، اگرچہ خطے میں سکیورٹی خدشات اور حملوں کے واقعات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق جاری سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں ایران، عمان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں ایک عارضی یا حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت کی اس اہم سمندری شاہراہ پر جہازوں کی آمدورفت دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ اسکاٹ بیسٹ کے مطابق معاہدہ منگل یا بدھ تک طے پانے کا امکان ہے اور اسی ہفتے جہاز رانی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنی علاقائی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کا خواہاں بھی نہیں۔

مذاکرات کی کامیابی کی امید نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کیے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور عالمی منڈی میں قیمتیں اسی ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں، جبکہ دنیا بھر کی کئی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جسے سرمایہ کاروں نے ممکنہ استحکام کی علامت قرار دیا۔

قطر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم پاکستان اور عمان کی سفارتی سہولت کاری سے ایک ابتدائی معاہداتی مسودہ دونوں فریقوں تک پہنچا دیا گیا ہے، جس پر مشاورت جاری ہے۔

اس تمام سفارتی سرگرمی کے باوجود خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے شہر نجران کے ہوائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ عمان کے قریب ایک لائبیریا کے کارگو جہاز پر میزائل حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس میں عملے کا ایک رکن لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران بھارت نے بحیرہ احمر میں اپنے ایک تجارتی جہاز کے تباہ ہونے کی تصدیق کی، تاہم تمام ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق عمان کے ساتھ زیر غور عارضی منصوبے میں ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر اس کا مؤثر کنٹرول ہو، جبکہ باہر جانے والی بحری ٹریفک کی نگرانی بھی اس کے دائرۂ اختیار میں رہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔

مجموعی طور پر سفارتی پیش رفت نے عالمی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، لیکن خطے میں جاری فوجی سرگرمیاں اور سکیورٹی خطرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اب دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں جو نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن بلکہ عالمی توانائی، تجارت اور معیشت کے مستقبل کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔

Back to top button