ہُنڈا کو پاکستان میں پروڈکشن پلانٹ کیوں بند کرنا پڑ گیا؟

ملک کی ابتر معاشی صورتحال نے گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے، معاشی بحران کے باعث ہنڈا کمپنی نے اپنے پروڈکشن پلانٹ کو 15 اپریل تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہنڈا اٹلس کارز پاکستان لمیٹڈ کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ موجودہ معاشی بحران اور لیٹر آف کریڈٹ کھولنے پر پابندی کے پیش نظر کیا ہے، برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق کمپنی نے آٹھ مارچ سے 31 مارچ تک اپنا پروڈکشن پلانٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ہنڈا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشی چیلنجز نے اس کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں کمپنی اپنی پیداوار کو جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ہنڈا موٹر کارپوریشن لمیٹڈ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس میں کہا ہے ’بالآخر یکم اپریل 2023 سے 15 اپریل 2023 تک اپنے پلانٹ کو بند رکھنا ہوگا۔
انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی جیسی دیگر گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی پاکستان کی معاشی مشکلات کی وجہ سے گزشتہ تین سہ ماہیوں سے پیداوار روکنے پر مجبور ہیں۔
واضح رہے کہ مارکیٹ میں خریدار کم ہونے، بلند شرح سود، گاڑیوں کی پیداوار میں کمی سمیت مختلف محرکات کی وجہ سے آٹو فنانسنگ رواں برس جولائی کے مقابلے میں 2.2 فیصد کم ہو گئی ہے جوکہ جنوری کے بعد سب سے کم ترین سطح ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگست میں گاڑیوں کیلئے قرض 8.2 فیصد اضافے سے 353 ارب روپے ہوگئے جوکہ 2021 میں اسی مہینے میں 326 ارب روپے تھے اور رواں سال جولائی میں 361 ارب روپے تھے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق جون سے اگست تک آٹو فنانسنگ میں مجموعی کمی تقریباً 15 ارب روپے رہی، سربراہ ریسرچ پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ سمیع اللہ طارق نے کہا کہ شرح سود بلند رہنے کی صورت میں آنے والے مہینوں میں آٹو فنانسنگ منفی رہ سکتی ہے۔
دریں اثنا سربراہ ریسرچ اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز فہد رؤف نے مہنگی آٹو فنانسنگ کے پیش نظر مکمل آٹو سیکٹر کیلئے ایک مشکل وقت آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ آئندہ 6 ماہ میں 15 فیصد کی بلند شرح سود میں کمی کا امکان نہیں ہے۔
فہد رؤف نے کہا کہ بلند قیمتوں کی وجہ سے لوگ گاڑیوں کیلئے قرض لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں جس کے سبب گاڑیوں کی مانگ کم ہو گئی ہے، اسٹیٹ بینک کی جانب سے 30 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ کی حد اور گاڑیوں کیلئے قرض کی مدت میں 7 سے 3 سال کی کٹوتی بہت سے خریداروں کو راغب کرنے میں ناکامی کا سبب ہے، فہد رؤف نے بتایا کہ انشورنس اور دیگر چارجز شامل کرنے کے بعد لوگ 20 فیصد شرح سود پر گاڑیوں کیلئے قرض لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے، لوگوں کیلئے مہنگی ماہانہ اقساط ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ پر نااہلی کی تلوار کیوں لٹکنے لگی؟

Back to top button