پاکستان میں ’’کرپٹو کرنسی‘‘ کو گرین سگنل کب ملے گا؟

دنیا بھر کی حکومتیں اور شہری ڈیجیٹل کرنسی ’’کرپٹو‘‘ سے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں، جہاں شہری دن رات دولت سمیٹ رہے ہیں تو وہیں حکومتیں بھی ان سے لاکھوں ڈالر کے ٹیکس اکٹھا کر رہی ہیں، قازقستان نے 7 ملین ڈالر جبکہ بھارت نے 60 لاکھ ڈالر ٹیکس کی مد میں اکٹھا کیا۔
کرپٹو کرنسی کی مقبولیت بڑھنے پر کئی ممالک اس کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان میں چین، امریکا، تھائی لینڈ، ملیشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، ان ممالک میں بھی ڈیجیٹل کرنسی ابھی آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے۔
دنیا کی مشہور ڈیجیٹل کرنسیوں میں بٹ کوائن سر فہرست ہے، دوسرے نمبر پر ایتھریم اور پھر تیسرے نمبر پر یو ایس ٹی ڈی ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں ایک بٹ کوائن کی قیمت 20 ہزار 589 امریکی ڈالر ہے، ایتھریم کی قیمت تقریباً 1900 امریکی ڈالر، جبکہ ایک یو ایس ڈی ٹی کی قیمت 0.9 امریکی ڈالر ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی دراصل الیکٹرانک کرنسی کو کہتے ہیں جو کاغذی شکل میں نہیں ہوتی نا ہی یہ کسی ریاستی بینک کی جانب سے جاری کی جاتی ہے، یہ کسی ٹھوس فارم میں نہیں ہوتی۔
ڈیجیٹل کرنسی کے ایک ماہر مزمل فرقان نے بتایا کہ ڈیجیٹل کرنسی ای پے منٹس کو کہتے ہیں۔ ہمارے کریڈٹ کارڈز، ای ویزا وغیرہ تمام ڈیجیٹل کرنسی کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ جس طرح ہم ان کارڈز کے ذریعے آن لائن لین دین کر سکتے ہیں اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہوتا ہے۔
مزمل فرقان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلاک چین پر چل رہی ہوتی ہیں، مطلب یہ کہ اس کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکزی ادارہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ترسیل کمپیوٹر کے ذریعے ایک کوڈ کے تحت کی جاتی ہے اور اس طریقے کو صارفین ’’مائننگ‘‘ کہتے ہیں۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے گرو مانے جانے والے وقار ذکا نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی بالکل اسی طرح ہوگی جیسے امریکا میں شروع ہونے والی فیڈناؤ (FEDNOW) سروس ہے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی جاز یا ایزی پیسہ کا ایک نیا ورژن ہوگا، کیونکہ اس ڈیجیٹل کرنسی کے پیچھے جو بھی کرنسی ہوگی وہ پاکستانی روپے میں ہی ہو گی، جس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے، ایک سوال پر وقار ذکا نے بتایا کہ اگر آپ کرپٹو کرنسی کے بارے میں مکمل معلومات یا طریقہ کار سے لا علم ہیں تو پہلے مکمل تربیت اور طریقہ کار حاصل کریں پھر صرف بٹ کوائن میں ہی سرمایہ کاری کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر بغیر سرمایہ کاری کے طریقہ کار سرچ کریں اور پھر اس کی ٹریڈنگ کا مکمل طریقہ کار سیکھیں، یہ تاثر غلط ہے کہ راز درانہ ٹرانزیکشن کی وجہ سے اس میں رکاوٹ ہے۔ اس میں ایسی کوئی خفیہ چیز نہیں ہے، کاغذی کرنسی کو لاحق خطرات کے حوالے سے وقار ذکا نے بتایا کہ کاغذی کرنسی ڈاکیے کہ طرح ہے جیسے ڈاکیے کو ای میل سے خطرات لاحق ہیں وہی خطرات یہاں بھی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں وقار ذکا نے بتایا کہ وہ عدالت میں تقریباً 2 سال تک بغیر وکیل کے پیش ہوتے رہے کہ اسٹیٹ بینک کرپٹو پر پابندی نہیں لگا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو ایک سافٹ ویئرہے نا کہ کرنسی نوٹ، ‘لہٰذا فارن ایکسچینج ایکٹ 1947 کا قانون یا بینکنگ کورٹ کا کوئی قانون کرپٹو پر لاگو نہیں ہوسکتا۔
وقار ذکا کا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی جواب نہیں ہے تو عدالت براہ کرم یہ لکھے کہ ریاستی بینک نے کبھی بھی کرپٹو کو غیر قانونی قرار نہیں دیا، وقار ذکا کیس میں اسے ایک بڑی فتح سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی اس بات پر اسٹیٹ بینک کرپٹو پر پابندی نہیں لگا سکتا تھا۔ وہاں کی گورنمنٹ نے 2022 میں صرف کرپٹو کرنسی کی مد میں ٹیکس وصول کر کے 7 ملین یو ایس ڈالرز کمائے ہیں، اسی طرح انڈیا کی گورنمنٹ نے 60 کروڑ ڈالر ٹیکس کی مد میں کمائے ہیں، اسی طرح دیگر کئی ممالک کرپٹو کرنسی کے ذریعے ٹکیس کی مد میں خاصہ پیسہ کما رہے ہیں مگر پاکستان میں موجود بابوں کو اس
16 سال پرانا اوریجنل آئی فون 4 کروڑ 64 لاکھ روپے میں فروخت
کی سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کے کتنے فوائد ہیں۔
