کیا عمران کے پاس آبرومندانہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان نے سیاست کے میدان میں جس جمناسٹک کو متعارف کرایا اور جو جو ’’دانش مندانہ‘‘ اقدامات کئے، اُن سب کا فائدہ دوسروں ہی کے حِصّے میں آیا اور خسارہ خود عمران خان کو سمیٹنا پڑا. ان کے ایسے کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے جن سے اُن کی جھولی میں تو کچھ نہ آیا، البتہ ان کے حریفوں کو ناقابلِ تصوّر حد تک فوائد حاصل ہوئے. المیہ یہ کہ اب عمران کے پاس آبرومندانہ واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں بچااپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست پر نگاہ ڈالی جائے تو اُن کی حکمت ودانش کے ایسے ایسے شاہکار دکھائی دیتے ہیں جو خان کی سیاست کو پیہم زخم لگاتے اور اُن کے حریفوں کو نہال کرتے رہے. کوئی پوچھے کہ اقتدار میں آنے اور چاروں طرف سے آتی ٹھنڈی معطّر ہوائوں کے بہار آفریں موسموں میں آپ کو کیا سوجھی کہ فوری طورپر جنرل عاصم منیر کو آئی۔ایس۔آئی چیف کے منصب سے ہٹانے کی ضد لے بیٹھے؟ اس کا خسارہ کسے ہوا اور فائدہ کسے؟ جنرل فیض حمید کو اپنے اقتدار کے لئے ناگزیر سمجھ لینے اور اُن کے سائبان تلے عشروں کی حکمرانی کا منصوبہ کس نے بنایا اور اس سے کیا حاصل ہوا؟ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے حکیمانہ فیصلے سے آپ کو کیا ملا؟ جب اپنے جانے کا نقارہ بجنے لگا تو اُسی جنرل باجوہ کو توسیعِ مزید کی پیشکش کیا پھل لائی؟ سائفر کا نام دے کر کاغذ کے ایک پرزے سے کھیلنے، امریکہ کو مطعون کرنے اور پھر اُس کی خوشنودی کے جتن کرنے کا مشورہ کیا اپوزیشن نے دیا تھا؟ عرفان صدیقی سوال کرتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی آئینی مشق پر آتش زیرپا ہونے، قاسم سوری سے ایک حیا سوز رولنگ دلوانے کا کیا فائدہ ہوا؟ راتوں رات قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے جمہوریت کُش اقدام سے کیا ہاتھ آیا؟ فرطِ طیش میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں سے آپ کمزور ہوئے یا آپ کے حریف؟ پھر عدالتوں کے ذریعے اُسی قومی اسمبلی میں واپس آنے کی مشقِ رائیگاں نے کن چہروں پر کالک تھوپی؟ جب مئی 2022ءمیں طے پاگیا کہ پی۔ڈی۔ایم حکومت مستعفی ہوکر اسمبلیاں توڑ رہی ہے اور اگست 2022ءمیں انتخابات ہو جائیں گے اور جنرل باجوہ نے خود آپ کو اس کی ضمانت بھی دے دی تو 25مئی کو اسلام آباد پر چڑھائی کا مقصد کیا تھا؟ اس کا فائدہ یا نقصان کس کو ہوا؟ جنرل باجوہ کے اعجاز اور عدلیہ کی رسوائے زمانہ آئینی تشریح پر بننے والی پنجاب حکومت اور اسمبلی کو رُخصت کرکے کسے فائدہ ہوا؟ دس برس سے خیبرپختونخوا میں قائم اپنی حکومت اور اسمبلی پر کلہاڑا چلانے سے کون سا مقصد حاصل ہوا؟ نومبر2022میں جنرل سید عاصم منیر کا راستہ روکنے کے لئے راولپنڈی پر چڑھائی سے پی۔ٹی۔آئی کو کیا حاصل ہوا؟ اعلیٰ فوجی عہدیداروں پر، نام لے لے کر، قتل کرنے کی سازش کا الزام لگانے سے آپ کے نامۂِ اعمال میں کتنا حُسن آیا؟ آئی۔ایم۔ایف سے معاہدہ روکنے کی کوششیں آپ کے کس کام آئیں؟ اگر نفع ونقصان والی دلیل مان لی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ تمام اقدامات خان صاحب کے نہیں، اُن کے مخالفین کے تھے یا پھر اُن کا کوئی ’’ہمزاد‘‘ یہ سب کچھ کئے جا رہا تھا۔ ایک نقطۂِ نظر یہ بھی ہے کہ خان صاحب نے جو کچھ کیا، چند غیرسیاسی مگر موثر مشیروں کی شہہ پر کیا۔ سیاسی شعور اور حرکیات سے بے بہرہ ہونے کے سبب وہ آنکھیں بند کرکے چلتے رہے اور آج دہکتے ہوئے دشتِ بے اماں میں تنہا کھڑے ہیں۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نرگسّیت ایک موذی مرض ہے۔ اس مرض میں مُبتلا شخص خُود کو عقلِ کُل سمجھنے لگتا، دل ودماغ کے سارے دَر دریچے، نصیحت، صائب مشورے اور حرفِ خیر کے لئے بند کرلیتا اور اپنی ذات کی قصوری چکی میں قید ہوکے رہ جاتا ہے۔ وہ گزرے کل کو بھول کر ہر روز ایک نیا بیانیہ اور نیا موقف بنانے کے ہُنر میں طاق ہوتا ہے اور اپنی غلطیوں کے مضحکہ خیز جواز کو بھی افلاطونی دلیل سمجھنے لگتا ہے۔ عمران خان کی پوری سیاست، اوّل وآخر اسی نرگسّیت کی عبرت آموز کہانی ہے۔
9 مئی، اس نرگسّیت کا نقطۂِ کمال تھا۔ ’’کوئی مجھے چھُو بھی نہیں سکتا۔ کوئی مجھے گرفتار نہیں کرسکتا۔ میں ناقابل تسخیر ہوں۔ کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں ’خطرے ناک‘ ہوجائوں گا اور پورے ملک میں قیامت بپا کردوں گا۔‘‘ اپنی گرفتاری سے پہلے ہی انہوں نے خود کو ’’ریڈلائن‘‘ قرار دے رکھا تھا۔ 9 مئی بظاہر کارکنوں کا بے ساختہ پن لیکن درحقیقت ایک منظم سازش کا شاخسانہ تھا۔ دفاعی تنصیبات، علامتوں اور شہداء کی یادگاروں پر حملوں کی حد تک یہ سازش کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ لاہور کور کمانڈر کی رہائش گاہ راکھ کر دی گئی اور فدائین راولپنڈی میں جی۔ایچ۔کیوکے پھاٹک تک جاپہنچے۔ بلوائیوں کی اس بڑی کامیابی کے باوجود وہ عناصر متحرک نہ ہوسکے جنہیں ردّعمل کے طورپر بلووں کی آگ کو ادارے کے اندر تک لے جانا اور الائو بھڑکا کر خان صاحب کی امنگوں میں رنگ بھرنا تھا۔ عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ عمران خان کو اُس شدیدردّعمل کا بھی اندازہ نہ لگا پائے جو 9مئی کے بعد سامنے آیا اور جس نے نہ صرف قومی سیاست کا منظر نامہ مکمل طورپر تبدیل کردیا بلکہ خان صاحب کی سیاست کو بھی رنگا رنگ بیانیوں کا کفن پہنا کر اُن کے دعووں کے آبنوسی تابوت میں ڈالا اور گہری قبر میں دفنا دیا۔ یہ وہ نوحہ ہے جو ہر بپھری ہوئی ’’نرگسّیت‘‘ کا مقدر ہوا کرتا ہے۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دلیل تراشنے کے باوجود جب بات نہ بنی تو خان صاحب نے کہاکہ ۔’’یہ دیکھنا چاہئے کہ 9 مئی کا فائدہ کس کو ہوا؟ ہمیں تو نقصان پہنچا ہے۔ سو یہ کام انہی کا کیا دھرا ہے جنہیں اس کا فائدہ ہوا ہے۔‘‘عمران خان کی سب سے بڑی غلطی، جسے ’’اُمّ الاغلاط‘‘ کہا جاسکتا ہے، یہ تھی کہ وہ صدقہ وخیرات اور عطا وبخشش کے فراخ دلانہ بہائو کے بل پر فلاحی اور رفاہی منصوبوں کے دیار خیروبرکت سے سیاست کی طرف آنکلے جو سرے سے اُن کے خمیر میں نہ تھی۔ اُن کے پاس کرکٹ کا ہیرو ہونے کا چیک تھا۔ اس چیک کو کیش کراکے انہوں نے اچھے اداروں کی بنیاد ڈالی۔ پھر وہی چیک اٹھائے وہ سیاسی بینک کے کائونٹر پر آکھڑے ہوئے اور بھول گئے کہ ایک ہی چیک دوبار کیش نہیں ہوسکتا۔ المیہ یہ کہ اب اُن کے پاس آبرومندانہ واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں بچا اور اس سے بھی بڑا سانحہ یہ کہ وہ اپنے عہد اقتدار اور عرصۂِ سیاست میں کوئی ایک بھی روشن روایت نہ ڈال سکے جس کی یاد محرومیوں کی طویل یخ بستہ سیاہ راتوں میں اُن کے لئے جگنو ستارہ بنے۔

فیس بک پر انسٹاگرام طرز کے ویڈیو فیچرز پیش کرنے کا اعلان

Back to top button