طالبان نے راولپنڈی پہنچ کر تاوان طلب کرنا شروع کر دیا

تحریک طالبان پاکستان کے بھتہ خوروں نے راولپنڈی پہنچنے کے بعد اب شہریوں سے تاوان مانگنا شروع کر دیا ہے۔ راولپنڈی میں ٹی ٹی پی کے ایک بھتہ خور نے سرکاری ٹھیکیدار سے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا لیکن جب اس نے رقم دینے سے انکار کیا تو دھمیال کے علاقے ڈھوک لکھن میں واقع ٹھیکیدار کے گھر پر کریکر سے حملہ کر دیا۔ 3 جنو ری 2022 کو تھانے میں اس واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد محکمہ انسداد دہشت گردی نے کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

سرکاری ٹھیکیدار اور ڈھوک لکھن چکری روڈ کے رہائشی محمد نثار نے درج  ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ اسے 7 اکتوبر 2022 کو اپنے موبائل فون پر ایک وائس میسج موصول ہوا جس میں کال کرنے والے نے خود کو ٹی ٹی پی کا نمائندہ بتایا اور ان سے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ جب ٹھیکیدار نے اس وائس میسج کو نظر انداز کیا اور اس کا جواب نہ دیا تو اس شخص نے مزید دھمکانے کے لیے اسی ٹھیکیدار کے بھائی مشتاق علی کے موبائل فون پر بھی ایک وائس میسج بھیج دیا۔ اس پیغام میں کہا گیا کہ اپنے بھائی کو بتا دینا کہ اگر تاوان کی رقم ادا نہ کی گئی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

 

نثار کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 20 سال سے راولپنڈی میں سرکاری ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے رقم طلب کیے جانے کے بعد 28 دسمبر 2022 کو رات 4 بجے میرے گھر کے باہر دھماکے کی آواز سنائی دی۔ ایف آئی آر کے مطابق ٹھیکیدار اپنے گھر کی چھت پر گیا تاکہ جان سکے کہ آخر کیا ہوا ہے لیکن اسے اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آیا اور واپس نیچے اپنے کمرے میں آکر سو گیا۔ لیکن اگلے دن اسکے بھائی کو ایک وائس میسج موصول ہوا جس میں پیغام بھیجنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس نے کل رات اس کے بھائی کو دھماکہ کر کے صرف ایک جھلک دکھائی ہے۔ شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں مشتبہ شخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دھمکی دی ہے کہ میں ہینڈ گرنیڈ پھینک کر تمہارے بھائی کے گھر کو تباہ کر دوں گا۔ نثار نے کہا کہ دھمکی آمیز وائس پیغامات سن کر وہ پریشان ہو گئے ہیں لہذا ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔

 

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ملزم واٹس ایپ کالز کرنے کے لیے غیر ملکی گیٹ وے استعمال کرتا ہے جس کے باعث اسکی لوکیشن کا تعین کرنا مشکل ہے، ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ سنگین ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان اب دارالحکومت اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور واقع راولپنڈی شہر تک پہنچ چکے ہیں لہذا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مدد سے ٹی ٹی پی کے اس نیٹ ورک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متحدہ نے الیکشن کمیشن کیخلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

Back to top button