عدالت کا نیب کو مشرف کے خلاف کارروائی کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرنل ریٹائیرڈ انعام الرحیم کی درخواست پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کرپشن الزامات پر کارروائی نہ کرنے پر 12 فروری کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ 31 جنوری کو توہین عدالت کی درخواست پر کارروائی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان پر مشتمل بینچ نے کی۔
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اپنی توہین عدالت کی درخواست میں کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود چیئرمین نیب نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف ان کی دائر کردہ درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی ہالہ کے عدالتی احکامات آئے بھی دو برس گزر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 جنوری 2018 کو فیصلہ دیا تھا کہ نیب، کرپشن کے الزامات میں ریٹائرڈ جنرلز کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔اس فیصلے سے قومی احتساب بیورو کے آرڈیننس 1999 میں تذبذب دور ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر شکایات کے باوجود بھی انسداد کرپشن کا ادارہ ہمیشہ ریٹائرڈ فوجی افسران کے خلاف کارروائی پر ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔
کرنل انعام الرحیم نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر پاکستان کا عوامی عہدہ رکھنے والے پرویز مشرف نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے ذرائع آمدن سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے تھے لہذا نیب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آمدن سے ذیادہ اثاثے رکھنے کے الزام پر سابق آرمی چیف کیخلاف کارروائی کرے۔
انعام الرحیم کی جانب سے نیب میں 9 برس قبل دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ انسداد بدعنوانی کے قومی ادارے نے پہلے مشرف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بعد ازاں کہا گیا کہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے اس شکایت پر کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
کرنل انعام الرحیم نے یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے رکھا جس بے فروری 2018 میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ احتساب بیورو کے پاس درخواست گزار کی شکایت پر غور کرنے کا اختیار موجود ہے اور غور و خوض کے بعد اگر یہ رائے سامنے آئے کہ آرڈیننس 1999 کے تحت بادی النظر میں جرم کیا گیا ہے تو یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تحقیقات کرتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھائے۔
درخواست گزار نے دلیل دی کہ مشرف نے بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر پاکستان ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے حلف کا غلط استعمال کیا۔ تاہم دو برس مزید گزر گئے اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال عدالتی احکامات کے باوجود اس کیس پر کوئی کاروائی کرنے سے انکاری رہے۔
چنانچہ خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے 16 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ واضح عدالتی احکامات کے باوجود نیب نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو قیمتی پلاٹوں سے نوازنے اور غیر قانونی ذرائع سے اپنی جائیداد بنانے کے الزامات پر کارروائی شروع نہیں کی۔
عمران خان نے خطرناک ہونے کی دھمکی فوج، عدلیہ کو دی
یاد رہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کے لیے نیب کو پہلا خط اپریل 2013 میں لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موصوف نے دفاعی مقاصد کیلئے مختص ہزاروں بیش قیمت پلاٹ اپنے پیاروں کو الاٹ کر دیے جس وجہ سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کرنل انعام نے غیر قانونی طور پر فوجی جرنیلوں کو الاٹ کئے گئے ان پلاٹوں کی تفصیل بھی نیب کو فراہم کی تھی۔
کرنل انعام نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ نیب مشرف کی جانب سے الاٹ کردہ اور تحفہ کی گئی زمین کا مکمل سرکاری ریکارڈ حاصل کرے اور زمین کی واپسی کیلئے ڈائریکٹر جنرل ویلفئیراینڈ ری ہیبلیٹیشن کو ہدایات دے کیونکہ تمام زمینیں اس ملک کی ہیں جو عوام کی ملکیت ہے۔
نیب کو دی گئی درخواست میں کرنل انعام نے مشرف پر غیر قانونی ذرائع سے کئی قیمتی جائیدادیں بنانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ انکی جانب سے نیب کو مہیا کیے جانے والے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق مشرف اور انکے خاندان کے نام پر ملک کے مختلف حصوں میں واقع 10 سے زائد جائدادیں ہیں جن میں سےصرف دو جائیدادوں کی مالیت ہی ایک ارب بنتی ہے۔
کرنل انعام نے نیب کو بتایا تھا کہ مشرف نے ایک انوکھی پالیسی متعارف کرائی تھی کہ بطور آرمی چیف نوکری کے خاتمے پرجب وہ آخری دستخط کریں گے تو اسکے ساتھ خاص پلاٹ کا الاٹمنٹ لیٹر بھی ہونا چاہیےجو کہ لاسٹ سگنیچر پلاٹ کہلاتا ھے۔ مشرف نے ایک اور خفیہ پالیسی یہ بھی متعارف کرائی کہ ریٹائرمنٹ پر آرمی چیف کو تمام تر سہولیات سے آراستہ ایک تیار شدہ 2 کنال کا گھر تحفہ میں دیا جائے گا۔ کرنل انعام کا موقف تھا کہ جنرل مشرف کے یہ فیصلے غیر قانونی تھے جن سے بعد میں آنے والے فوجی سربراہوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔
تاہم قومی احتساب بیورو جنرل مشرف کے خلاف کرنل انعام کی درخواست پر کوئی کارروائی کرنے سے انکاری تھا لہذا انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی درخواست پر کارروائی کی رپورٹ 14 فروری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
