الیکشن نتائج کا موجودہ نظام کتنا منصفانہ ہے؟

الیکشن 2024 کیلئے نتائج کا تعین کرنے والے سسٹم آر ٹی ایس، آر ایم ایس کو ختم کر کے نیا نظام لایا گیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اس نظام سے الیکشن نتائج کو قبول کریں گی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے جیل سے جاری پیغام میں بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن نے وہ کمپیوٹر ہیک کر لیے ہیں جن سے انتخابی نتائج سامنے آئیں گے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام سناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’ن لیگ نے وہ کمپیوٹر ہیک کر لیے ہیں جہاں سے انتخابی نتائج آئیں گے اور ان کے ذریعے وہ نتائج کو تبدیل کریں گے۔عمران خان کے پاس وکلا کے ذریعے معلومات آئی ہیں اور انھوں نے خاص طور پر تاکید کر کے بھیجا ہے کہ یہ معلومات باقی جماعتوں اور لوگوں تک پہنچا دیں کہ ن لیگ نے کمپیوٹر ہیک کر لیے ہیں جہاں سے نتائج آنے ہیں۔تاہم اس بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے نئے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس حوالے سے اب تک کوئی معلومات نہیں ملی لیکن ’اگر علیمہ بی بی ایسا کہہ رہی ہیں تو خان صاحب نے انھیں یہ پیغام پھیلانے کو کہا ہوگا۔علیمہ خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’انھیں میرا مشورہ ہے کہ جتنی ان کی سیاسی سمجھ بوجھ ہے اسی کے مطابق بات کیا کریں۔پاکستان میں آئندہ ہفتے عام انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے اور ان کے نتائج مرتب کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک نجی ادارے سے سافٹ ویئر تیار کروایا ہے جسے اس بار الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم سی) کا نام دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کا اصرار ہے کہ یہ نظام گذشتہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) سے یکسر مختلف ہے البتہ اسے الیکشن کمیشن کے اپنے رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کی نئی شکل ضرور کہا جا سکتا ہے۔الیکشن کمیشن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ نومبر 2022 سے نتائج مرتب کرنے سے متعلق نئے نظام ’ای ایم ایس‘ پر کام شروع کیا تھا، اس مقصد کے لیے ایک ’بِڈنگ‘ کے ذریعے ایک نجی کمپنی ’سپائر‘ کو چنا گیا، جس نے نتائج مرتب کرنے کے لیے ایک میکنزم اور سافٹ ویئر تیار کر کے الیکشن کمیشن کے حوالے کیا۔الیکشن کمیشن نے اس سافٹ ویئر پر الیکشن سے محض چند دن قبل 27 جنوری کو ایک تجربہ کیا اور اس عمل میں 859 ریٹرنگ افسران بھی شریک ہوئے یوں یہ ریٹرنگ افسران کے لیے تربیتی ورکشاپ بھی ثابت ہوئی کہ انھوں نے آٹھ فروری کے انتخابات کے نتائج کیسے مرتب کرنے ہیں۔ہر آر او کو صوبائی اسمبلی کے حلقے کا نتیجہ تیار کرنے کے لیے تین جبکہ قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے چار ڈیٹا آپریٹرز میسر ہوں گے، جن کے پاس لیپ ٹاپ ہوں گے اور وہ مسلسل ان نتائج کو مرتب کر رہے ہوں گے، ملک بھر سے بہترین صلاحیت کے تقریباً 3600 ڈیٹا آپریٹرز ان نتائج کو مرتب کرنے کے عمل میں شامل ہوں گے۔اب جب 2018 میں تقریباً 83000 پولنگ سٹیشنز سے نتائج آنا شروع ہوئے تو پھر اس نظام کی بس ہوگئی۔اس وقت الیکشن کمیشن میں ایک پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ بھی کام کر رہا ہے۔ یہ یونٹ دو ڈھائی برس قبل قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد الیکشن کمیشن کو نئے اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔سعد علی کے مطابق جب پی آر او اپنا نتیجہ بھیج دے گا تو پھر ریٹرنگ افسر کے پاس سارا سسٹم ہوگا، اس کے رزلٹ کو کوئی تبدیل نہیں کر سکے گا،الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دنیا بھر میں انتخابی نتائج میں تاخیر پر اتنا شور نہیں مچایا جاتا مگر پاکستان میں ایسی تاخیر کو دھاندلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں کئی پولنگ سٹیشن اتنے دور دراز ہیں کہ وہاں سے رات کو واپسی کا سفر کرنا عملے کے لیے ممکن نہیں ہوتا اور پھر جب سیکیورٹی دستیاب ہوتی ہے تو پھر یہ عملہ

الیکشن پر گڑ بڑ، شرپسندوں کوپہلے ہی اٹھانے کا فیصلہ

محفوظ جگہ تک سفر کرتا ہے۔

Back to top button