نوازشریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ 100 فیصد عمران کا تھا

وزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے تمام دعوؤں کے برعکس وفاقی کابینہ کے ایک اہم رکن اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ ‘100’ فیصد صرف وزیراعظم عمران خان نے لیا تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ جب سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ کمرے میں موجود پی ٹی آئی کے 6 سے 8 سینئر رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیر اعظم کو جانے کی اجازت دینے کے بارے میں اختلاف رائے تھا۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم کو یقین ہے کہ وہ میڈیکل رپورٹس جن کی بنیاد پر نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جھوٹی تھیں۔
سوال کے دوران پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم عمران خان عدلیہ پر نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتے ہیں، ساتھ ہی اسد عمر سے پوچھا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کس کا تھا؟اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اسد عمر نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے یہ تبصرہ اس سوال کے تناظر میں کیا جو پوچھا جا رہا تھا یعنی کیا نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی اجازت حکومت نے دی تھی یا کسی اور نے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے خود کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے اور نواز شریف کو بھیجنے کا فیصلہ صرف اور صرف وزیراعظم نے کیا ہے’۔
بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش بارے نئے انکشاف
خیال رہے کہ کرپشن کیس میں سزا پانے والے نواز شریف کو نومبر 2019 میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ماضی میں وزیراعظم اور ان کے معاونین نے کئی مرتبہ یہ کہتے ہوئے اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ حکومت نے ‘حقیقی میڈیکل رپورٹس’ کی بنیاد پر انہیں علاج کے لیے جانے کی اجازت دی تھی۔
روانگی سے قبل جب نواز شریف لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے، وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خفیہ طور پر طبی ماہرین کو ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا۔اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور دیگر طبی ماہرین نے بھی نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس دیکھی ہیں اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’طبی ماہرین کا خیال تھا کہ ’ممکنہ طور پر‘ نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا لیکن میڈیکل رپورٹس بتاتی تھیں کہ ان کی حالت جان کو خطرہ ہوسکتی ہے۔اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ نواز کی میڈیکل ہسٹری کے پیش نظر اور ان کی نئی بیماری کے ساتھ حکومت سیاسی انتقام کی وجہ سے نواز شریف کو علاج سے روکنے کا کوئی الزام قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔
