وزیراعظم، سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو گھر بھجوانےکی تیاریاں

پی ڈی ایم نے وزیراعظم، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد لاکر حکومت کو گھر بھجوانے کی تیاری شروع کردی، پی ڈی ایم اسٹیئرنگ نے حکومت گرانے کیلئے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے بھی مشاورت شروع کردی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور پی ڈی ایم رہنماء شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا ورچوئل اجلاس ہوا۔اجلاس میں مولانا عبدالغفورحیدری، میرکبیرشاہی، احسن اقبال، حافظ عبدالکریم، سکندرشیرپاؤ شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد لانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں لانگ مارچ کی تیاری اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر غور کیا گیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت اپوزیشن کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے، عمران خان 5سال پورے کریں گے کہیں نہیں جارہے ہیں،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اتنی نااہل اپوزیشن ملی، صدارتی نظام اور ایمرجنسی کا بڑا شور ہے لیکن ابھی تک کابینہ میں ایسی کوئی تجویز نہیں آئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ابھی ٹریکٹر ٹرالی ریلی نکالی ہے، وہ ایک ریڑہ ریڑھی کی ریلی تھی، اپوزیشن کو لانگ مارچ کے فیصلے پرغور کرنا چاہیے،اوآئی سی اجلاس میں سینکڑوں مہمان آرہے ہیں، وہ 23 مارچ کی پریڈ میں شرکت کریں گے،کرونا بھی ہے، ان کو چاہیے لانگ مارچ چار دن پہلے یا بعد میں کرلیں۔

اعصاب کا کھیل آخری مرحلے میں، پہلا حملہ کون کرے گا؟

شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن اسلام آباد آکر لانگ مارچ کی خواہش پوری کرلے، اپوزیشن کو چاہیے لانگ مارچ 23 مارچ کی بجائے 24 مارچ کو کرلے، وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 23 مارچ کو اوآئی سی کانفرنس ہے،اوآئی سی اجلاس کے سلسلے میں 21 مارچ سے کچھ سڑکیں بند ہوسکتی ہیں، بلاول بھٹو نے بھی ایک تاریخ دے رکھی ہے ان کے ساتھ ملکر سب لانگ مارچ کرلیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن نے کوئی ایسی غلطی کی جس سے جمہوریت کا نقصان ہوا تو بات ان کے گلے پڑے گی۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد پر اپوزیشن اپنا منہ دیکھے، فنانس بل میں ان کے 12 لوگ کم تھے عدم اعتماد کے وقت 25 کم ہوں گے۔

Back to top button