سینیٹ میں شکست تحریک عدم اعتماد کے لیے جھٹکا

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی میں مصروف متحدہ اپوزیشن کو تب ایک شدید دھچکا لگا جب حکومت نے سینیٹ میں دلاور خان گروپ کی مدد سے تین قوانین منظور کروا کر اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھرپچھاڑ دیا حالانکہ سینٹ میں حزب اختلاف اکثریت میں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو لگنے والے جھٹکے کے اثرات قومی اسمبلی میں لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایوانِ بالا میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن کی شکست سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف آسانی سے تحریک عدم اعتماد منظور نہیں کروا سکے گی۔
دوسری جانب دلاور گروپ کے سربراہ سینیٹر دلاور خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں مزید دلچسپی نہیں رکھتے اور پہلی اور آخری مرتبہ سینیٹ کے رکن بنے ہیں، تاہم اس گروپ کی مدد سے حکمران اتحاد نے اکثریت رکھنے والی اپوزیشن کو ہر مرتبہ شکست دی ہے۔
خیال رہے کہ 17 فروری کو سینیٹ میں حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2022 بآسانی منظور کرا لیا تھا۔ اوگرا ترمیمی بل کی منظوری سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز نے ایوان میں تند و تیز تقاریر کیں۔ جب الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل بل 2022 پیش کرنے کی تحریک پر سینیٹ کے چیئرمین نے ووٹنگ کرائی تو دونوں اطراف کے 29، 29 سینیٹرز برابر تھے جس کے بعد چیئرمین صادق سنجرانی نے اپنا ووٹ یعنی کاسٹنگ ووٹ تحریک کے حق میں دیا۔
یہ دیکھتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے واک آؤٹ کیا تو حکومت نے اوگرا کا ترمیمی بل پیش کر کے یک طرفہ طور پر منظور کرایا۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری پر شرمندہ ہیں، اسے پہلے مشترکہ مفادات کونسل کے پاس جانا چاہئے تھا، پٹرول قیمتیں بڑھنے پر قوم پریشان ہے جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ سی سی آئی یا آئین کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین کی اکثریت ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں اسے سٹیٹ بینک کے ترمیمی بل پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ایک دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے بلاول بھٹو کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا جسے مسترد کردیا گیا۔
کرونا نے مزید 33 افراد کی جان لے لی
اس وقت سینیٹ میں کُل ارکان کی تعداد 100 ہے جن میں سے اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان 51 ہیں مگر تاحال کسی بھی اہم قانون سازی کے دوران حکومت کو مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سینیٹ میں جب بھی حکومت کو کامیابی اور اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سینیٹر دلاور خان اور ان کے آزاد گروپ میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اس گروپ نے سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن اور بعد ازاں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا فیصلہ کرنے کے دوران اہمیت حاصل کی۔
کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے آزاد سینیٹرز کا ’دلاور گروپ‘ کہلانے والا یہ گروپ گذشتہ دنوں سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کی حمایت کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں بھی آیا۔ تاہم گروپ کے سربراہ سینیٹر دلاور خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مزید سیاست میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ’یہ پہلی اور آخری بار ہے جو سینیٹر بنا۔‘
دلاور خان گروپ گروپ کے تین سینیٹرز خیبر پختونخوا سے دلاور خان، ہدایت اللہ اور ہلال رحمٰن اور تین سینیٹرز بلوچستان سے باپ پارٹی کی حمایت سے منتخب ہونے والے کہدہ بابر، احمد خان اور نصیب اللہ بائیزئی ہیں۔ سینیٹر دلاور خان خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے پار ہوتی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سرکاری ملازمت کرتے رہے اور 2001 تک محکمہ کسٹمز میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے۔
2001 میں پرویز مشرف کی حکومت نے سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف قومی احتساب بیورو کے ذریعے مہم شروع کی تو دلاور خان کو گرفتار کیا گیا تاہم وہ پلی بارگین کر کے رہا ہو گئے۔ دلاور خان مارچ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور ان کی چھ سالہ مدت مارچ 2024 میں ختم ہوگی۔
سینیٹ میں عددی اکثریت نہ ہونے کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سینیٹر صادق سنجرانی کا چیئرمین رہنا بھی دلاور خان گروپ کے مرہون منت ہے جن کے تعاون سے اپوزیشن کی سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تھی۔ سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کی حالیہ ہزیمت کو دیکھتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے جا رہی ہیں.
لیکن جس طرح حکومت نے چالاکی دکھاتے ہوئے اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کے اراکین کی تعداد مزید کم ہو جائے کیونکہ ایوان زیریں میں پہلے ہی اپوزیشن اراکین کی تعداد کم ہے اور تحریک عدم اعتماد کے لئے یہ جہانگیر ترین گروپ کے فارورڈ بلاک اور اتحادی جماعتوں کے اراکین پر تکیہ کئے ہوئے ہے۔
