کیا حسینہ واجد کی فراغت میں پاکستانی ایجنسیز کا بھی کردار تھا

پاکستانی انٹیلی جینس حلقوں میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کا کریڈٹ لیے جانے کے ساتھ ساتھ اب یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ وہاں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے ڈھاکہ اور اسلام اباد کے مابین تعلقات میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر پاکستان کیا کوئی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ یاد رہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھارت نواز سمجھتی تھی چونکہ وہ شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں۔ شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کی محرومیوں کو بنیاد بنا کر مغربی پاکستان سے علیحدگی کی تحریک چلائی تھی اور اسی نعرے کی بنیاد پر 1971 کا الیکشن جیت کر اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے۔ یہ اور بات کہ وہ بعد میں اپنی ہی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے اور آج ان کی صاحبزادی بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ گزین ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس حلقے شیخ مجیب کے قتل اور حسینہ واجد کی فراغت کا کریڈٹ لینے سے نہیں گھبراتے۔
1971 کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی ایک حساس موضوع رہا ہے۔ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات خاص طور پر جنگی جرائم کے مقدمات کے تناظر میں مزید خراب ہوئے۔ تاہم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کی طرح دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش میں ایک تنظیم نے پہلی مرتبہ 11 ستمبر کو بانی پاکستان محمد علی جناح کی برسی بھی منائی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کی پاکستان کے حوالے سے سفارت کاری میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی؟ سوقل یہ بھی یے کہ پاکستان کی بنگلہ دیش میں کتنی دلچسپی ہے اور پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے سے بنگلہ دیش کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف نے پروفیسر محمد یونس کو بطور چیف ایڈوائزر تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفارت خانہ بھی کافی متحرک ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے موجودہ حکومت کے مشیروں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔
بنگلہ دیش کے مشہور لکھاری اور مصنف فہام عبدالسلام کا خیال ہے کہ گزشتہ 15 سال میں بنگلہ دیش کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انڈیا کی نظروں سے دیکھا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سنہ 1971 کی تاریخ کے اردگرد ہی گھومتے رہے ہیں۔ 1971 کے ’قتل عام‘ پر معافی بنگلہ دیش میں ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کئی بار اس بارے میں بات کر چکے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اب تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ اس بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا خیال ہے کہ ’1971 کی تکلیف دہ تاریخ دونوں ممالک میں موجود ہے لیکن یہ مسئلہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے حل کر لیا اور اس سلسلے میں 1974 میں ایک معاہدہ بھی ہوا۔‘ 1971 کی جنگ کے بعد اس وقت پاکستان کے صدر یحییٰ خان کو صدارت سے دستبردار ہونا پڑا لیکن اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں ختم نہ ہو سکیں۔
بین الاقوامی برادری کی کوشش کے نتیجے میں سنہ 1974 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے رہنما ایک دوسرے کے ملک کے دورے پر آئے۔ 23 فروری 1974 کو اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں شیخ مجیب الرحمن کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔ اس سے ایک روز قبل ہی پاکستان بنگلہ دیش کو باضابطہ طور پر تسلیم کر چکا تھا۔
پھر اسی سال جون میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ’پاکستانی عوام آپ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان بنگلہ دیش کی خودمختاری اور آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔‘
بنگلہ دیش، پاکستان اور انڈیا کے درمیان اپریل 1974 میں ایک سہ فریقی معاہدہ بھی ہوا، جس کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کے عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر پاکستان کو معاف کر دیں اور ماضی کو بھلا کر آگے بڑھیں۔ شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے بھی ماضی کو بھول کر ایک نئی شروعات کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ 2002 میں فوجی صدر پرویز مشرف نے بھی ڈھاکہ کا دورہ کیا اور 1971 کے واقعات پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا تاہم بنگلہ دیش میں اسے باضابطہ معذرت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔
1971 کی جنگ میں مرنے والے بنگلہ دیشی دانشور منیر چودھری کے بیٹے آصف منیر بھی محسوس کرتے ہیں کہ معافی یا پاکستان کو شرمندہ کرنے کے معاملے پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’بلاشبہ پاکستانی عوام 1971 کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ وہ اس بارے میں غمگین نہیں۔‘ آصف منیر نے کہا کہ ’1970 کی دہائی میں بھی پاکستانی فنکاروں اور مصنفین نے بنگلہ دیش کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کی۔‘ فہام عبدالسلام نے 1998 میں دورہ پاکستان کے اپنے تجربے کی کہانی سنائی۔ انکا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو بتایا کہ وہ بنگلہ دیش سے آئے ہیں تو اس نے ان سے معافی مانگی۔ انکے مطابق ڈرائیور نے میرا ہاتھ پکڑ کر 1971 کے لیے معافی مانگی۔ میں اس سے بہت متاثر ہوا۔‘ فہام عبدالسلام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں بنگلہ دیش کے حوالے سے سب کا رویہ یکساں نہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ایک احساس ندامت ضرور موجود ہے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ’کیا 1971 کے بعد پیدا ہونے والا کوئی پاکستانی بچہ اس سب کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ اپنے دادا کے جرم کے ذمہ دار ہوں گے؟‘ چنانچہ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو تلخ ماضی کی یادیں بھلا کر باہمی تعلقات بہتر بنانے اور آپس میں تجارت شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے جس کا فائدہ دونوں ممالک اور اس کے عوام کو ہو گا۔
