کیامولانا فیصل کنڈی کو گورنر کے پی بنانے کا غصہ نکال رہے ہیں؟

عدالتی ریفارمز بارے آئینی ترمیم کی منظوری میں حکومتی ناکامی کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف تھیوریز تاحال زیر بحث ہیں تاہم یہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ آئینی ترمیمی پیکج کی منظوری میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا بنےاور انہوں نے بلاول بھٹو کی تمام تر کوششوں، حکومت کی جانب سے گورنری، وزارتوں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی پیش کش سمیت تمام ترغیبات کے باوجود انکار کر دیا۔ مولانا کا یہ بے لچک رویہ حکومتی کیمپ کے لیے حیران کن رہا۔
مبصرین کے مطابق عام انتخابات اور حکومت سازی کے بعد سے مولانا حکمران جماعتوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے سخت ناراض اور برہم ہیں۔ مولاناکے قریبی حلقے کے لوگ بتاتے ہیں کہ مولانا کی اصل خفگی پیپلزپارٹی کے لیے تھی کیونکہ مولانا کی صدارت کی خواہش کی راہ میں بھی وہ رکاوٹ بنی اور بلوچستان میں بھی جے یوآئی کو معقول تعداد میں نشستیں لینے کے باوجود آوٹ کرنے والی پی پی پی ہی تھی۔ پھر خیبر پختونخوا کی گورنر شپ کے لیے مولانا کے ایک روایتی حریف کنڈی خاندان کے فیصل کنڈی کو منتخب کیا گیا۔ بلاول بھٹو کو مولانا نے یہ بات تب کہی، جب انہوں نے طنزاً عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے تقرر کا ذکر کیا۔ مولانا نے صاف کہہ دیا کہ آپ لوگوں نے بھی وہ گورنر بنایا جو میرے خلاف الیکشن لڑتا اور میرا مخالف ہے، آپ کو بھی خیبرپختونخوا کی گورنر شپ کے لیے اور کوئی آدمی نہیں ملا تھا۔ مولانا کے ن لیگ اور شریف برادران کے لیے بھی تحفظات تھے۔ اس سب کے باوجود حکومت کو یقین تھا کہ مولانا کو رضامند کر لیا جائے گا۔ تاہم حکمران اتحاد مولانا کو منانے میں ناکام رہا۔
تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومتی کیمپ آئینی ترمیم کو منظور کرانے کا پورا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی امریکہ سے واپسی کے بعد اگلی موو ہوگی۔ بعض لوگ 30 ستمبر کی تاریخ دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ترمیم منظور کرانا ازحد ضروری ہو گیا ہے ورنہ خود اس پوری حکومتی سیٹ اپ اور اس کی افادیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ ایسے میں جہاں مولانا کو منانے کی کوششیں جاری ہیں وہیں حکومت نے پلان بی بھی تیار کر لیا ہے تاہم مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن سے مسلسل ملاقاتوں کے باوجود یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ مولانا آخر چاہتے کیا ہیں اور مولانا فضل الرحمان آخر کس کا ساتھ دیں گے؟تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن نے قائل کر لیا ہے تاہم حتمی طور پر اب بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔
سینیئر صحافی سلیم صافی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حکومتی وفد اور پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقاتوں کے دوران کہا ہے کہ یہ آئین ہے اور اس میں اتنی آسانی سے ترامیم نہیں کی جا سکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آئینی ترمیم کے مسودے پر شدید تحفظات ہیں، سویلینز کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں منتقل کرنے کی تجویز پر مولانا کو سب سے زیادہ تحفظات تھے اس لیے مولانا فضل الرحمان کو منانا اتنا آسان نہیں ہے۔سلیم صافی کے مطابق مولانا نے آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے دروازے بھی بند نہیں کیے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ پہلے جامع حکمت عملی اور پارلیمانی کمیٹی کے سامنے تجاویز رکھی جائیں ان پر بحث ہو اور پھر ایک مسودہ تیار کیا جائے، اس مرتبہ تو مولانا فضل الرحمان مسودہ مانگتے ہی رہے تاہم حکومت ان کو مسودہ نہ دے سکی۔انہوں نے کہا کہ اگر آئینی ترمیم کا معاملہ کمیٹی میں آئے گا، پارلیمنٹ میں اس پر بات ہو گی اس وقت مولانا فضل الرحمان اپنی تجاویز کے ساتھ اس کی حمایت کر سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ بغیر مسودے کو پڑھے مولانا فضل الرحمان اس آئینی ترمیم کی حمایت کر دیں۔
دوسری جانب سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے مسودے پر کسی پارلیما نی پارٹی سے مشاورت نہیں کی گئی نہ ہی کسی پارلیمانی پارٹی کی تجاویز کو شامل کیا گیا، اگر حکومت ان کی تجاویز کو آئینی ترمیم میں شامل کرے اور جن تجاویز پر ان کو اختلاف ہے ان تجاویز کو مسودے سے نکال دے تو اس صورت میں مولانا فضل الرحمن حکومت کی جانب سے پیش کی گئی آئینی ترمیم کی حمایت کریں گے۔
سینیئر تجزیہ کار ارشاد عارف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کی طرح کسی کو خوش کرنے کے لیے فوری طور پر آئینی ترمیم کے لیے تیار نہیں ہو سکتے ہاں البتہ اگر پارلیمان کے وقار یا آئین کی بالادستی کے لیے کوئی تجاویز پیش کی جائیں تو ایسی صورت میں مولانا فضل الرحمن آئین میں ترمیم کی حمایت کر سکتے ہیں۔ارشاد عارف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے لیکن جو مسودہ سامنے آیا ہے اس سے جمہوریت کو مزید کمزور کیا جا رہا تھا اس لیے مولانا فضل الرحمان نے فوری طور پر اس مسودے کو مسترد کیا ہے، دوسری جانب ججز کے حوالے سے جو ترامیم ہیں اگر وہ بار کونسلز کی مشاورت سے طے ہوں اور عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے لیے ہوں تو ایسی تجاویز پر بھی مولانا فضل الرحمان رضا مند ہو سکتے ہیں۔
