کیا افغان قونصل جنرل کانوں کی بجائے اپنی تشریف سے سنتے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر کی جانب سے پاکستانی قومی ترانے کی حالیہ بے حرمتی ویانا کنونشن میں طے کردہ سفارت کاری کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ایک گھٹیا حرکت تھی جس پر موصوف کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے بے دخل کر دینا چاہیے، تاہم تحریک انصاف کے ہمدرد کچھ نادان دوست ایسے بھی ہیں کہ جو بھونڈے دلائل دیکر اس حرکت کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ فلاں تقریب میں فلاں بیورو کریٹ نے بھی تو یہ حرکت کی تھی۔ لیکن سیدھی بات یہ ہے کہ گر کوئی پاکستانی شہری ایسی حرکت کرتا ہے تو اس سے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی غیر ملکی سفیر ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے سفارت کاری کے اصولوں کی خلاف ورزی اور اظہار دشمنی سمجھا جائے گا۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ میں نے آج تک کوئی ایک بھی ایسی خبر نہیں سنی کہ کسی ملک کے سفارتکار نے ہاتھ ملانے، گلے ملنے، بوسہ دینے یا ادب سے جھک کر اسناد سفارت پیش کرنے سے انکار کر دیا ہو اور یہ دلیل دی ہو کہ اس بات کی ان کے ہاں گنجائش نہیں۔ آج تک کبھی کسی افغان سفارتکار نے کسی اور ملک میں ایسی بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ ہر ملک کے قومی ترانے کا احترام ہر سفارت کار پر واجب ہے۔ مگر یہ انوکھی مثال ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کے پشاور میں قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی موجودگی میں تب قائم کی جب وہ اور انکے ساتھی قومی ترانہ بجائے جانے کے وقت کھڑے ہونے کے بجائے ڈھٹائی کے ساتھ بیٹھے رہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ افغان قونصل خانے کی طرف سے جو وضاحت کی گئی ہے وہ عذرگناہ بدتر ازگناہ والی بات ہے۔ قونصل خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستانی کے قومی ترانے میں موسیقی تھی اسلئے انکے سفارتکار اسکے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے۔ گویا تشریف کرسی پر رکھے رہنے کا سبب یہ تھا کہ وہ کان کے بجائے تشریف سے سنتے ہیں اور سیٹ پر بیٹھے رہنے سے موسیقی ان کی تشریف سے نہیں ٹکراتی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان قونصل خانے نے بھونڈی پریس ریلیز جاری کی ہے چونکہ طالبان کے وفود جب بیرون ملک بالخصوص چین جاتے ہیں تو وہاں قومی ترانے کے احترام میں نہ صرف کھڑے ہوتے ہیں بلکہ انکا میوزک بھی انہیں بہت بھاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ضعف یا ڈھیل کے سبب اس طرح کی حرکت سرزد ہوئی اور ابھی تک ان کی طرف سے مذمت بھی نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ دنیا بھرمیں سفارتی تعلقات 1961ء کے ویانا کنونش کے تحت استوار کئے جاتے ہیں جن کے تحت غیر ملکی سفارت کار مقامی قوانین، تہذیب و ثقافت اور اقدار و روایات کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ اگر کوئی غیر ملکی سفارتکار روگردانی کا مرتکب ہوتا ہے تو ویانا کنوشن کے آرٹیکل 9 کے تحت اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا بہتر ہو گا کہ محب اللہ شاکر نامی اس شخص کو مقامی اقدار و روایات کا احترام نہ کرنے پر فوری طور پر ملک بدر کیا جائے اور طالبان حکومت جسے ابھی تک پاکستان سمیت کسی ملک نے سفارتی سطح پر باقاعدہ قبول نہیں کیا، اسے بتایا جائے کہ آئندہ پاکستان بھیجے جانیوالے سفارتکاروں کو سفارت کاری کے آداب اور بنیادی اصول سکھا کر بھیجا جائے۔
