کیاعمران خان اور نوازشریف کے کیسوں میں کوئی فرق ہے؟
تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بچگانہ موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان پر 13 پارٹی اکائونٹس چھپانے اور اس بارے جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ انکا نہ تو ان اکاؤنٹس سے کوئی براہ راست تعلق تھا اور نہ ہی انہیں ان کے بارے میں علم تھا۔ سابق وزیر قانون اور پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جو دستاویز جمع کروائی اسکی حیثیت بیان حلفی کی نہیں بلکہ ایک ڈیکلریشن کی ہے جو انہوں نے نہیں بلکہ انکی ٹیم نے تیار کیا تھا لہذا اس کی بنیاد پر ان کے خلاف آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت کارروائی ممکن نہیں۔ لیکن علی ظفر بھول گئے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے صرف اس بنیاد پر آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران حاصل کردہ اقامے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ نواز شریف نے جواب میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انکے وکلا نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے کوئی تنخواہ ہی وصول ہی نہیں کی تو پھر اقامے کا ذکر کرنا بھی ضروری نہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے انکا موقف رد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کی وجہ سے صادق اور امین نہیں رہے۔ چناچہ انہیں عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ اس لئے بیرسٹر علی ظفر کا یہ موقف کافی بھونڈا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے دستخطوں سے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا اس میں چھپائے گئے 13 بینک اکاؤنٹس کی ذمہ داری ان پر نہیں بلکہ ان کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے اور انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے عمران خان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے 16 اکاؤنٹس ایسے ہیں جو انکی جماعت کی سینئر قیادت نے کھولے لیکن وہ ڈیکلیئر نہیں کیے گئے۔ لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ان 16 اکاؤنٹس کا عمران خان سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہیں تو پھر پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس کی ذمہ داری ان پر کیسے عائد نہیں ہوتی۔ فواد نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم بتائیں گے یہ 16 اکاؤنٹس بھی غیر قانونی نہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جب الیکشن کمیشن نے ان 16 پارٹی اکاؤنٹس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے تو پھر وہ انہیں کس طرح سے قانونی ثابت کریں گے اور اگر وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں تھے تو الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے سے پہلے انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟
یاد رہے کہ 2 اگست کو الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تحریک انصاف کو ممنوعہ غیرملکی ذرائع سے فنڈنگ ہوئی ہے اور اس نے اپنے اکاونٹس چھپائے، جبکہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے اکائونٹس کا غلط تصدیقی سرٹیفکیٹ جمع کروایا تھا۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکبر ایس بابر کی درخواست پر آٹھ سال بعد سنائے جانے والے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ ’دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس کا معاملہ پولیٹکل پارٹیز آرڈیننس 2002 کے آرٹیکل چھ (تین) کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ سے متعلق ہے اس لیے کمیشن پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہے۔‘
بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان نے کہاں سے کتنا مال بنایا؟
آرٹیکل چھ (تین) کا جائزہ لیا جائے تو اس کے مطابق کسی بھی غیرملکی حکومت، ملٹی نیشنل کمپنی یا مقامی طور پر قائم سرکاری یا نجی کمپنی، فرم، یا تجارتی ادارے اور پیشہ ورانہ ایسوسی ایشن کی طرف سے فنڈز یا چندہ لینا سیاسی جماعتوں کے لیے ممنوع ہے۔ سیاسی جماعتیں صرف انفرادی چندہ لے سکتی ہیں۔ ماہر قانون اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کے مطابق ’الیکشن کمیشن کا فیصلہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے کے بعد ممنوعہ فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان کے غلط حلف نامے پر ان کا کہنا تھا کہ مخالفین آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت ان کی نااہلی کی کوشش کریں گے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے مگر اس طرح کے ڈیکلیئریشن کو روٹین میں لیا جاتا ہے۔ عمران خان معاشی امور کے ماہر نہیں ہیں انہیں جو دیا گیا انہوں نے آگے پہنچا دیا۔ اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے بلکہ پارٹی پر بات آتی ہے۔‘
دودری جانب پارلیمانی اور قانونی امور پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے جتنا برا ممکن ہو سکتا تھا اتنا ہی برا آیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے تبصرے میں انہوں نے فیصلے کے تین اہم پہلوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ’پہلی بات تو یہ ہے کہ فیصلے سے تصدیق ہو گئی کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ رقم قبول کی۔ دوسری بات یہ ہے کہ فارن فنڈنگ بھی اس ممنوعہ رقم میں شامل تھی اور تیسری بات یہ ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کا اکائونٹس کی تفصیلات کے حوالے سے بیان حلفی جھوٹا ہے۔ اس سے اب اگلے اقدامات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یعنی اب حکومت پاکستان تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینے کیلئے آرٹیکل 17 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھی دائر کر سکتی ہے اور صادق اور امین نہ رہنے پر عمران خان کی نا اہلی کے لیے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت الیکشن کمیشن میں بھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی تھی جس میں دعوی ٰکیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نے سال 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکٹھے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور فارن فنڈنگ کے معاملے میں اختلاف کے بعد انھیں پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا تھا۔تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ 2014 میں پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی درخواست پر شروع ہوا تھا۔ یہ درخواست پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے 14 نومبر 2014 کو دائر کی تھی۔ درخواست پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اور پولیٹیکل پارٹیز رولز کی شق 6 کے تحت دائر کی گئی تھی اور مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ممنوعہ ذرائع سے فنڈ اکٹھے کرنے پر پی ٹی آئی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی تھی کہ ذمہ داران کے خلاف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے پیرا 14 اور 15 کے تحت کارروائی کی جائے۔ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی درخواست پر الیکشن کمیشن میں کیس کی 90 سے زائد سماعتیں ہوئیں، 30 سے زائد مواقع پر پی ٹی آئی نے وکلا کی خرابی صحت، بیرونی دوروں اور دیگر مصروفیات کے باعث التوا کی درخواست کی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس دوران 6 سے زائد مرتبہ درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے وکلا کو متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے 21 احکامات جاری کیے جبکہ پی ٹی آئی نے اس مقدمے میں 8 وکلا تبدیل کیے۔ الیکشن کمیشن نے مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے مالی امور کی جانچ پڑتال کے لیے اسکروٹنی کمیٹی قائم کی تھی، جس کے لگ بھگ 95 اجلاس ہوئے جبکہ کمیٹی کو کام کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن میں التوا کی درخواستوں اور دیگر وجوہات کے باعث کمیٹی نے 4 سال کے عرصے میں اپنا کام مکمل کیا اور جنوری 2022 میں اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور بیرون ملک سے فنڈنگ کا انکشاف کیا تھا جس کی بنیاد پر اب اکبر ایس بابر کے الزامات کو درست ثابت قرار دے دیا گیا ہے۔
