کیا الیکشن کمیشن PTIپر پابندی لگانے والا ہے؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو انتخابی نشان الاٹ کرنے پر پابندی اور پی ٹی آئی کے انتخابی عمل سے آؤٹ ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں ناکامی پر سخت اقدامات بارے متنبہ کرنے کے باوجود نہ تو تحریک انصاف میں الیکشن کروائے گئے ہیں اور نہ ہی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن کیس کے سلسلے میں الیکشن کمیشن میں طلبی کے باوجود پیش ہوئے۔ عدم پیشی کی وجہ سےپاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی تاہم عمران خان کے وکیل گوہر علی کی استدعا پر الیکشن کمیشن نے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو4 اگست کے لیے نوٹس جاری کر رکھا تھا، جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ انٹراپارٹی الیکشن نہ ہونے پر پی ٹی آئی انتخابی نشان لینے کے لیے نااہل ہوسکتی ہے۔الیکشن کمیشن نے نوٹس میں خبردار کیاتھا کہ اگر انتخابات کے نتائج الیکشن کمیشن میں نہیں جمع کرائے گئے، تو پھر پارٹی کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔خیال رہے الیکشن ایکٹ 2017ء کے مطابق سیاسی جماعتیں پارٹی انتخابات کرانے اور نتائج الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی پابند ہيں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو پارٹی کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے نوٹس کے اجراء بارے سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نوٹس انتخابی قوانین کے مطابق ہے لیکن پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ای سی پی اس کے حوالے سے متعصب ہے۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں میں انتخابات مثبت ہيں لیکن پاکستان میں جس طرح یہ انتخابات ہوتے ہیں انہیں جمہوری روایات کا عکاس نہیں گردانا جا سکتا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان ہارون شنواری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ”کیونکہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ مختلف جماعتوں نے اپنے منشور میں جماعتی انتخابات کے حوالے سے تاریخ دی ہوئی ہے۔ کچھ جماعتیں دو سال بعد انتخابات کراتی ہیں جبکہ کچھ چار سال بعد کراتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس 160 سے زیادہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں۔ جس جماعت کی انتخابات کے حوالے سے باری آتی ہے، اسے نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔‘‘

تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اس کے ساتھ رویہ امتيازی ہے۔ پی ٹی آئی کی خواتین ونگ کی صدر کنول شوزب نے بتایا، ”ہمارے بچے اسکول نہیں جا پا رہے۔ ہمارے کارکنان کو پکڑا جا رہا ہے۔ ان پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہم پارٹی کے اندر انتخابات اس وقت کیسے کرا سکتے ہیں۔‘‘کنول شوزب کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کے ووٹرز کو کنفیوژ کرنا چاہتا ہے۔ ”اس لیے اس طرح کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے اور پاکستان الیکشن کمیشن پر بھی طاقتور حلقوں کی طرف سے دباؤ ہے۔ اسی لیے وہ اس طرح کے مطالبات کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم اس حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بلا وجہ اس مسئلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن کے قوانین کی ضرورت ہے اور ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے پورا کرے۔ پی پی پی کے رہنما اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ نے بتایا، ”ہم نے بھی الیکشن قوانین کے مطابق اپنی پارٹی میں انتخابات کرائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں کے ہم نے انتخابات کرائے اور ان کے نتائج ہم نے الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرا دیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ اس معاملے کو متنازعہ بنائیں۔‘‘

جمعیت علما اسلام کے رہنما محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی بھی انتخابات کرانے جا رہی ہے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کہتے ہیں کہ پانچ برس سے زیادہ دیر نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی پارٹی دو سال بعد پارٹی انتخابات کرائے یا کوئی چار سال بعد لیکن پانچ سال سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے۔‘‘محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کے مطابق ان کی پارٹی میں رکنیت سازی جاری ہے۔ "اور ہم جلد ہی انتخابات کرانے جارہے ہیں کیونکہ یہ ایک قانونی ضرورت ہے۔”

دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان میں پارٹی انتخابات صرف رسمی ہوتے ہیں اور ان میں جمہوری اقدار کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ڈاکٹر عمار علی جان کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے بتایا، "جمہوری ممالک میں پارٹی سربراہ کو پارٹی انتخابات کے وقت چیلنج کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں پارٹی چیئرمین یا پارٹی صدر بلا مقابلہ منتخب ہوجاتے ہیں۔ جب یہ بلا مقابلہ منتخب ہوں گے تو باقی کا بھی سیلیکشن ہوگا۔”عمارعلی جان کے مطابق اس کے علاوہ پارٹی کے کلیدی عہدوں کے انتخاب پر بھی جمہوری روایات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ "پارٹی کے اہم عہدے سربراہ کے رشتے داروں یا من پسند افراد کو

اپنی سیاسی قیادتوں کے غلام ہمارے نام نہاد نمائندے

دے دیے جاتے ہیں۔ تو اس طرح کے انتخابات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔”

Back to top button