نئے صوبوں کا قیام، طاقتور حلقوں کی حمایت، وزیر اعظم مکمل خاموش

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بااثر حلقے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی اور ازسرِنو تشکیل کے حامی ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال وفاقی کابینہ میں کوئی باضابطہ بحث یا فیصلہ نہیں ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تعداد، حدود یا حتمی نقشے کے بجائے فی الوقت سیاسی اور ادارہ جاتی اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت کے اہم وزرا بھی موجودہ نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پاکستان میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 26 کروڑ آبادی والے ملک میں موجودہ چار صوبوں پر حد سے زیادہ مرکزیت کا بوجھ ہے اور انتظامی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے یونٹس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اصولی طور پر ہر موجودہ صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق ایسی کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔

احسن اقبال نے اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر قانون کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ انتظامی اصلاحات کا جائزہ لے کر قومی اور سیاسی سطح پر باقاعدہ بحث شروع کی جاسکے۔ تاہم وہ نئے صوبوں کے بجائے تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کے قیام کا متبادل بھی پیش کرچکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد انتظامی اختیارات اور سرکاری خدمات کو شہریوں کے قریب لانا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجودہ نظامِ حکمرانی میں تبدیلی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوام کو بہتر خدمات، مؤثر احتساب اور انصاف تک آسان رسائی دینے کے لیے ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی کی جانب سے شروع ہونے والی اس بحث کو بعد ازاں بااثر حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بھی بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتی ضروریات کے تناظر میں انتظامی نظام میں ممکنہ ’’ری سیٹ‘‘ پر بحث کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی انتظامی اصلاحات کی بحث میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا جو تصور پیش کیا گیا تھا، اسے اس کی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں کیا جاسکا۔ ان کے مطابق پاکستان کے موجودہ 36 ڈویژنز بھی مستقبل کے کسی نئے انتظامی نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم اس نظام کی حتمی شکل اور نام باہمی مشاورت سے طے کیے جانے چاہییں۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو خصوصاً سندھ میں شدید سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے۔ سندھ اسمبلی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرچکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس صورتحال کے باعث نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی اصلاحات کا نہیں بلکہ ایک حساس سیاسی اور آئینی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے وزرا کی جانب سے مسلسل بیانات کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ نئے صوبوں کے قیام کا کوئی حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔ ایک باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ بااثر حلقوں میں موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی سوچ ضرور موجود ہے، لیکن وفاقی کابینہ میں ابھی تک اس معاملے پر باضابطہ طور پر بحث نہیں ہوئی۔ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق اس وقت غیر رسمی طور پر کئی آپشنز زیر غور ہیں، جن میں نئے صوبوں کا قیام بھی شامل ہے، جبکہ ایک متبادل راستہ موجودہ صوبوں کی آئینی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ضلعی حکومتوں کو زیادہ بااختیار بنانا ہے۔

نئے صوبوں کا قیام آئینی ترامیم اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا متقاضی ہوگا، جس میں متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ پارلیمنٹ کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں یہ معاملہ سیاسی طور پر انتہائی اہم ضرور ہے، لیکن ادارہ جاتی اعتبار سے ابھی ابتدائی مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر حکومت اس بحث کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے اتحادی جماعتوں، صوبائی حکومتوں اور دیگر سیاسی فریقوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، جس کے بعد ہی کوئی باضابطہ تجویز کابینہ اور پھر پارلیمنٹ کے سامنے آسکے گی۔

یوں اس وقت پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث زوروں پر ہے، طاقتور حلقوں کی حمایت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں اور حکومتی وزرا مختلف فارمولے پیش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ نئے صوبوں کی تعداد طے ہوئی ہے، نہ حدود کا فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی وفاقی کابینہ نے ابھی تک کوئی باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ یہ بحث صرف سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے یا حکومت اسے عملی انتظامی اور آئینی اصلاحات کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Back to top button