نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ ایوان کے اندر سے ہوگا یا باہر سے؟

بظاہر نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے، تاہم عملی طور پر اس حوالے سے حکومتی، سیاسی اور فیصلہ ساز حلقوں کے درمیان ایک نفسیاتی جنگ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف نئے صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ وقت کی ضرورت اور ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اعلیٰ سطح کے حکومتی و سیاسی ذمہ دار بھی مختلف مواقع پر اس امکان کی طرف اشارے دیتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکمران جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اس معاملے پر شدید سیاسی مشکلات اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف باقاعدہ قرارداد منظور کرکے پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم کا کوئی بھی آپشن اسے کسی صورت قبول نہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ان دنوں لندن میں موجود ہیں اور ان سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ پارٹی قیادت سندھ کی تقسیم کے معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی پوزیشن بھی خاصی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر فی الحال کوئی واضح اور دوٹوک رائے دیتے نظر نہیں آ رہے، تاہم مسلم لیگ ن کے اندر بھی پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔ پارٹی قیادت بظاہر ان تحفظات کا کھل کر اظہار کرنے سے گریزاں ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ سوال مسلسل موجود ہے کہ اگر نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ عملی مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو مسلم لیگ ن اپنا وزن کس طرف ڈالے گی۔

بنیادی سوال یہی ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز پر واقعی پیش رفت ہوگی تو اس کا راستہ کیا ہوگا؟ کیا یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی ترمیم کی صورت میں سامنے آئے گا یا سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی صورت میں کوئی متبادل راستہ اختیار کیا جائے گا؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ پیپلز پارٹی اس معاملے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار کیوں نہیں، مسلم لیگ ن کی حتمی پوزیشن کیا ہوگی اور اگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے درکار آئینی ترمیم کی راہ ہموار نہ ہوئی تو پھر اس تجویز کا مستقبل کیا ہوگا؟

نئے صوبوں کی بحث نے اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کی جب سیاسی قوتوں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی نظام کے معاملے پر مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ نئے صوبوں کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ انتظامی مسائل، آبادی کے حجم اور حکومتی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں نئے صوبوں کی تشکیل کا آپشن زیادہ مؤثر انداز میں زیر بحث آیا۔

موجودہ صورتحال میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ فیصلہ ساز حلقے نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر خاصے سنجیدہ ہیں۔ ان کی جانب سے سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنے اور آئینی و سیاسی معاملات سے نمٹنے کی ذمہ داری دی گئی، لیکن اس کے باوجود حکمران جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر مطلوبہ گرمجوشی دکھائی نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں پارلیمانی راستے سے اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہوتیں تو پھر نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ کس راستے سے آگے بڑھے گا۔

آئینی طور پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، اس لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر اس عمل کو مکمل کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل میں سنجیدگی رکھنے والے حلقے مبینہ طور پر متبادل راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان میں ریفرنڈم کا آپشن بھی زیر بحث آتا ہے، تاہم اس راستے کے حوالے سے بھی آئینی اور قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے کسی تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے صدر مملکت کے دستخط سمیت دیگر مراحل درکار ہوں گے۔

اس تمام صورتحال میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ خطاب بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی فرد واحد یا کوئی ایک جماعت نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے عمل کو نہیں روک سکتی۔ اگرچہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام لے کر بات نہیں کی، تاہم سیاسی حلقوں میں ان کے بیان کو بالخصوص پیپلز پارٹی کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے ہی سامنے آ چکا ہے۔

یوں نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی ضرورت کی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک اہم سیاسی اور آئینی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتوں کے مفادات، صوبائی حساسیت اور انتخابی سیاست اس معاملے سے جڑی ہوئی ہے، تو دوسری جانب فیصلہ ساز حلقوں کی جانب سے انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا قبل از وقت نہیں کہ نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی نہ کوئی پیش رفت ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ معاملہ زیر بحث آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ کس فورم پر اور کس طریقے سے ہوگا۔ اگر سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو پاتی تو پھر یہ معاملہ ایوان کے اندر کے بجائے کسی دوسرے راستے سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ راستہ کیا ہوگا، اس پر اتفاق رائے کیسے پیدا ہوگا اور کیا واقعی نئے صوبوں کی تشکیل عملی شکل اختیار کر پائے گی، یہ آنے والا وقت ہی واضح کرے گا۔

Back to top button