کیا فیض گھر کو چائے یا کھانے کے وقفے کیلئے بند کیا گیا؟

معروف شاعر فیض احمد فیض کی لاہور میں رہائش گاہ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، اور اس کی متضاد وجوہات سامنے آ رہی ہیں تاہم فیض احمد فیض کے نواسے عدیل ہاشمی کے مطابق گھر کو بند نہیں بلکہ موخر کیا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ ٹیسٹ میچ کے دوران کھانے یا چائے کا وقفہ ہے۔
لاہور میں گزشتہ 14 برس سے قائم فیض گھر کے حوالے سے میڈیا پر قیاس آرائیاں تھیں کہ اسے ملک کے معاشی حالات کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے، تاہم معروف شاعر فیض احمد فیض کے نواسے اور فیض فاؤنڈیشن کے سیکریٹری عدیل ہاشمی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے فیض گھر کو بند نہیں بلکہ موخر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ نہ خوشی خوشی کیا، نہ دل پر پتھر رکھ کے، آپ سمجھیں کہ کوئی دلچسپ کرکٹ میچ چل رہا ہے اور اس میں چائے یا کھانے کا وقفہ ہے نہ وہ میچ ختم ہوا ہے، نہ کرکٹ دنیا سے غائب ہوئی ہے۔ صرف بیچ میں کچھ وقفہ سا آیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ وقفہ بہت چھوٹا ہوگا۔عدیل کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں واقع فیض گھر کو تقریباً ایک ماہ قبل خالی کر دیا گیا تھا، جب تک معیشت میں کچھ استحکام نہیں آتا تب تک ہم اس منصوبے کو موخر کر رہے ہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ کوئی نہ کوئی صورت بن جائے گی اور ہم اسے کسی اور بہتر جگہ پر دوبارہ شروع کر دیں گے۔عدیل کے مطابق اس وقفے کی دو وجوہات ہیں: ’ایک اس ملک میں روایت سی ہے کہ اچھی چیزوں کو بند کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ البتہ اصل وجہ یہ تھی کہ ہمیں ہر سال فنڈز کا مسئلہ تھا لیکن ہم کہیں نہ کہیں سے پورا کر لیا کرتے تھے، ہمارا فوکس عام لوگ تھے جن کا تعلق مڈل یا لوئر مڈل کلاس سے تھا۔ ہم عوام الناس کے ساتھ کام کرتے تھے لیکن گذشتہ ایک برس میں اس ملک کے جو معاشی حالات بنے اس میں اس طبقے کے لیے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنا بہت مشکل ہو گیا۔عدیل ہاشمی نے بتایا کہ فیض فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو فیض کے نام پر بنایا گیا۔ یہ فاؤنڈیشن ایک چھتری ہے جس کا ایک منصوبہ فیض گھر تھا اور دوسرا منصوبہ فیض فیسٹیول، ایک اور منصوبے کے تحت ہم ترقیاتی سیکٹر میں کام کرتے ہیں، 2008 اور 2009 میں فیض احمد فیض کے خاندان نے سوچا کہ ہمارے پاس ان کی بہت سی تصاویر ہیں، یاداشتیں ہیں، میڈلز، ان کے ہاتھ سے لکھی تحریریں، خطوط اور بہت کچھ ہے تو اس سب کو کہیں آویزاں (display) ہونا چاہئے تاکہ لوگ دیکھ سکیں، ہم نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک جگہ لے کر ایک منی عجائب گھر بنایا ہے۔ یہ صرف ایک عجائب گھر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک محبت بھری سانس لیتی جگہ ہونی چاہئے۔عدیل کے مطابق فیض گھر کے دو حصے تھے۔ ایک بڑوں اور دوسرا بچوں کے لیے۔ بڑوں کے لیے ہم ادبی نشستیں کرتے تھے، لیکچرز، کتابوں کی رونمائیاں، اوپن مائیک، نئے گلوکاروں کیلئے کلاسیکل گلوکاری کی کلاسیں ہوا کرتی تھیں، یوگا بھی کروایا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ روزانہ ہوا کرتا تھا۔ اس سب کے لیے بہت مناسب سا معاوضہ ہوا کرتا تھا جو ہم انسٹرکٹر کو دے دیتے تھے۔بچوں کے لیے بھی یہی سب کچھ تھا لیکن وہ مصوری بھی کرتے تھے، کنگ فو سیکھتے، پاٹ پوری کا کام، مٹی سے چیزیں بناتے تھے، روبوٹکس کرتے تھے اور اس کے علاہ یقیناً وہ تخلیقی لکھائی، سٹوری ٹیلنگ اور رقص بھی سیکھتے تھے، فیض گھر کے موخر ہونے کا اثر فیض فیسٹیول پر نہیں ہوگا، جب تک ہمارے خاندان کی اور فیض صاحب کے چاہنے والوں کی سانس میں سانس ہے، دل دھڑک رہا ہے، نبض چل رہی ہے تب تک فیض فیسٹیول چلتا رہے گا۔عدیل کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ ہم فیض فیسٹیول کا دائرہ بڑھائیں اور اسے اسلام آباد لے کر آئیں، ہم جلد حکومت کے اشتراک سے اسلام آباد میں فیض فیسٹیول کریں گے، اس کے علاوہ انڈیا کے ادبی پلیٹ فارم ریختہ فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی بات چیت ہو گئی ہے اور اب ریختہ اور فیض فاؤنڈیشن انڈو پاکستان کا اایک بہت بڑا فیسٹیول اس سال کے آخر میں یا اگلے سال کے ابتدا میں

بھارتی لڑکے نے کراچی کی لڑکی سے آن لائن نکاح کر لیا

دبئی میں کرینگے۔

Back to top button