پروگرام ’’کسوٹی‘‘ نے شہرت کی بلندیوں کو کیسے چُھوا؟

کچھ کھیل جغرافیہ تک محدود رہنے کی بجائے ثقافتی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، ’’کسوٹی‘‘ کو بھی ان ہی کھیلوں میں شمار کیا جاتا ہے، کسوٹی کو نصف صدی سے لوگ پسند کرتے آ رہے ہیں جس نے پی ٹی وی کے مشہور کوئز شو سے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔اپنے بہترین دماغی کھیل سے عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف کی مقبول جوڑی کو 20 سوالات کی حد میں جواب بوجھنا ہوتا تھا، 1968ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کی اکثر میزبانی مرحوم قریش پور کیا کرتے تھے، اس کھیل نے کوئز پروگرام کے طریقہ کار کو ہی تبدیل کر دیا، 1964ء کے آخر میں پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف کروایا گیا، لاہور کے شہریوں میں اپنے آرام دہ گھروں میں فلمیں دیکھنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا تھا، ریڈیو ’اطلاع دینے، تعلیم دینے، تفریح کرنے کی بہترین مثال تھا اور اسی مثال کو بعد میں پی ٹی وی نے بھی اپنایا۔
پاکستان میں ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے بہت سی چیزیں ریڈیو سے متاثر ہوکر اپنائیں۔ وہ مغرب پر نظر رکھتے تھے اور پاکستانی قوم کے بھی نبض شناس تھے، 1965ء کے وسط میں لاہور سے دور ایک نوجوان لکھنؤ یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد کراچی پہنچا۔ وہ اس وقت تک کوئی نامور شخصیت، شاعر یا اسکالر نہیں تھے، اسی لیے انہیں ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے کی نوکری ملی، ان کے دو مشاغل تھے، ایک مشغلہ صبح بہتر ملازمت کی تلاش جبکہ دوسرا شام کو ریڈیو پر خبریں پڑھنا۔
افتخار حسین عارف یاد کرتے ہیں کہ چونکہ ہمارے پاس وقت ہوتا تھا اس لیے ہم نے آپس میں ایک کھیل کھیلنا شروع کیا جس میں کوئی ایک فرد، شخصیت/چیز/جگہ کا انتخاب کرتا تھا جبکہ دیگر کو اسے بوجھنا ہوتا تھا۔ ہارنے والے کو ناشتے کا بندوبست کرنا ہوتا تھا اور یوں کھیل اور ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا تھا، ’کبھی کبھار اس کھیل میں غازی صلاح الدین بھی ہمارا ساتھ دیتے تھے جنہوں نے بعدازاں صحافت کی دنیا میں خوب نام کمایا، افتخار عارف کے سوا کسوٹی پروگرام کا کوئی ممبر اب حیات نہیں ہے۔ افتخار عارف کو اس پروگرام کی تفصیلات ایسے یاد ہیں جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو، اسلم اظہر کو پروگرامز کا انچارج مقرر کر دیا گیا جس کے بعد وہ نت نئے آئیڈیاز کی تلاش میں تھے۔سلیم گیلانی صاحب ایک اتوار ہم تینوں کو اسلم اظہر سے ملاقات کرنے لے گئے۔ سلیم گیلانی امریکی کوئز شو ’20 کوئیشنس‘ سے واقف تھے، اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا ہو، مارچ 1968ء میں پی ٹی وی پر کسوٹی کی نشریات کا آغاز ہوا جس میں چند وقفے بھی آئے اور اس کی نشریات 1976ء تک جاری رہیں۔ افتخار عارف، عبیداللہ بیگ اور قریش پور پی ٹی وی سے منسلک ہوگئے اور یوں ریڈیو سے ان کا تعلق ختم ہوگیا۔ یہ تینوں افراد جلد ہی مقبول شخصیات بن گئے جبکہ افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو متعدد بار لوگوں نے سڑکوں پر روکا اور اَن جان لوگ ان سے شخصیات بوجھنے کو کہتے، عبید اللہ بیگ کا شو کے دوران تفصیلات کا خلاصہ کرنا بذات خود ایک شاندار انداز تھا لیکن افتخار عارف کا اپنے بالوں پر انگلیاں پھیرنا اور انگلی میں انگوٹھی گھمانے کا انداز اتنا مشہور ہوا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے یہ انداز شو سے بھی زیادہ مشہور ہوا۔1977ء میں سیاسی سیٹ اپ میں تبدیلی کے بعد افتخار عارف کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ملک میں کیا ہونے والا ہے، انہوں نے پی ٹی وی سے استعفیٰ دیا اور برطانیہ چلے گئے۔ برطانیہ میں انہوں نے ایک شاعر اور دانشور کے طور پر اپنا نام بنایا، بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک اردو مرکز کی سربراہی کی۔ کسوٹی کے مخصوص جملے جیسے ’زندہ یا مردہ‘، ’مرد یا عورت‘، تعلق برِاعظم ایشیا سے ہے؟ ان تمام کی ایک بار پھر ٹیلی ویژن پر واپسی ہوئی لیکن اس بار انہیں ادا کرنے والے افتخار عارف نہیں تھے، اردو شاعری میں اپنی گراں قدر خدمات کے لیے افتخار عارف کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا لیکن وہ شاید اپنے کسوٹی کے دنوں کی وجہ سے ہی زیادہ مقبول ہیں، ایک دفعہ افتخار عارف کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں تعینات کرنا تھا، اسی مقصد سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دستخط کرنے کیلئے کاغذات پیش کیے گئے جس پر انہوں نے پوچھا کہ ’یہ وہی ہیں نا جو کسوٹی میں اپنی
’پاکستان میں خزانہ نکل آیا‘ لیکن عوام کی قسمت کب بدلے گی؟
انگوٹھی سے کھیلتے تھے؟
