فیض حمید کے عمرانڈو بھائی کی کرپشن بارے تحقیقات شروع

اختیارات کے ناجائز استعمال اور مس کنڈکٹ کے الزام میں نائب تحصیلدار چکوال کے عہدے سے معطل ہونے والے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے عمرانڈو بھائی سردار نجف حمید اب اینٹی کرپشن کے بھی نشانے پر آ گئے ہیں۔اینٹی کرپشن نے نجف حمید کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ پیشرفت ان کے بھائی فیض حمید کے فوج سے ریٹائر ہونے کے مہینوں بعد سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی مبینہ کرپشن کے معاملے پر اینٹی کرپشن نے حکام کو خط لکھ دیاہے۔اینٹی کرپشن راولپنڈی نے نجف حمید سے متعلق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور چکوال کو خط لکھا ہے۔اینٹی کرپشن کے خط میں کہا گیا ہےکہ نجف حمید کی زیر ملکیت زمینوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے اور اس حوالے سے بھی مطلع کیا جائے کہ انھیں گردوار کے عہدے پر ترقی دینے کےلیے کتنے سینئرزکو سُپرسیڈ کیا گیا ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہےکہ نجف حمید کے آمدن سے زائد اثاثوں میں انکوائری جاری ہے اور ان کی ملکیتی زمین کی تفصیل درکار ہے۔
خیال رہے کہ فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو رواں سال 16 فروری کر نائب تحصیل دار کے عہدے سے معطل کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق محکمہ مال چکوال کے افسران کی جانب سے بڑا کریک ڈاؤن کیا گیاتھا جس کے نتیجے میں محکمہ مال چکوال کے 4 گرداور اور 8 پٹواریوں کو معطل کردیا گیا تھا ۔فیض حمید کے بھائی سمیت معطل ہونے والے گرداور اور پٹواریوں پر نازیبا رویے اور اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے۔اس ضمن میں راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر آفس کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ جس میں سردارنجف حمید خان کو فوری طور پر کمشنر آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیاتھا۔
خیال رہے کہ سردار نجف حمید خان جنرل (ر)فیض حمید کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر اور سرگرم رہنما بھی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ دوران ملازمت ہی پی ٹی آئی کیلئے جلسے ،ریلیوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں، انتخابات کے دوران الیکشن مہم میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 20 مئی 2021 میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید گلزار حسین شاہ نے نجف حمید خان کو گرداور سے نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ وہ ضلع چکوال میں پٹواری کے طور پر خدمات انجام دے رہےتھے۔
یاد رہے کہ فیض حمید کا خاندان پہلے ہی باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے۔ جنرل فیض حمید کے قریبی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ اسے صرف ممبر پارلیمان بننے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ اپنا سیاسی کریئر اس سے زیادہ اور اس سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ فیض حمید کا خیال ہے کہ وہ تحریک انصاف اور اس کے سوشل میڈیا فالورز میں کافی مقبول ہیں اس لئے پی ٹی آئی میں ان کی گنجائش موجود ہے۔ ویسے بھی عمران خان کی جماعت کو 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں فیض حمید کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس لئے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق عمران کی ممکنہ نااہلی کے بعد فیض حمید خود کو تحریک انصاف کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیل سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض ابھی ساٹھ برس کے بھی نہیں ہوئے اس لئے ایک بھر پور سیاسی اننگز کھیلنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت موجود ہے۔ تاہم فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق فیض حمید پر دو سال کے لئے عملی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے لیکن وہ ان دو برسوں میں اپنے نئے کیرئیر کے لیے نیٹ پریکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی رائے میں 2023 کے الیکشن کے بعد ان کے لئے تحریک انصاف میں بطور متبادل سامنے آنے کا بہترین وقت ہوگا۔ فیض حمید 2023 سے اگلے الیکشن میں اپنا سیاسی کردار دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 10 دسمبر کو ریٹائرمنٹ کی منظوری کے بعد 14 دسمبر کو فیض کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں اپنے آبائی علاقے چکوال میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ کہ اس اجتماع کا انتظام جنرل فیض کے بھائی سابق پٹواری نجف حمید نے کیا تھا جو پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔یاد رہے کہ فیض حمید نے جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف کا چارج سنبھالنے سے قبل ہی ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنرل باجوہ نے اپنی سروس کے آخری دن انکی ریٹائرمنٹ کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ان کی ریٹائرمنٹ اوکے کر دی تھی۔ اس طرح دس دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید فوج سے ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
