فیض حمید کے پوسٹرز کی جگہ اب سدھو موسے والا کے پوسٹرز

2018 کے الیکشن میں اپنے انتخابی پوسٹرز پر جنرل فیض حمید اور جنرل قمر باجوہ کی تصویریں لگانے والے شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے اب پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے اپنے انتخابی پوسٹرز پر معروف بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کی تصاویر لگانا شروع کر دی ہیں۔
سونا 350 روپے فی تولہ مہنگا ہوگیا
انڈیا سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے مقبول گلوکار اور سیاستدان سدھو موسے والا کو قتل ہوئے لگ بھگ ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کے قتل کے بعد سے پاکستان میں ان کے مداحوں کی طرف سے اُن کی تصاویر مختلف انداز میں سامنے آتی رہی ہیں تاہم اب ان کی تصویر پنجاب کی مقامی سیاست کے منظر نامے پر اُبھری ہے۔ پنجاب میں رواں ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ملتان کے حلقے پی پی 217 سے شاہ محمود قریشی کے بیٹے امیدوار زین قریشی کا ایک پوسٹر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرِ بحث ہے۔ اس پوسٹر میں سدھو موسے والا کی تصویر زین قریشی کے ساتھی چھپی ہوئی ہے۔
پوسٹر پر اُن کو سپورٹ کرنے والے اُن کی جماعت کے چند عہدیداران کے نام اور تصویریں بھی ہیں اور سدھو موسے والا کے ایک مقبول گانے 295 کا حوالہ سدھو کی تصویر کے ساتھ دیا گیا ہے۔زین قریشی گذشتہ عام انتخابات میں ملتان سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے تھے۔ تاہم حال ہی میں حکومت کھونے کے بعد اُن کی جماعت نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ سدھو موسے والا اور اُن کے گانے خاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول تھے۔ سوشل میڈیا ہی پر ان کے کئی گانے لاکھوں کی تعداد میں دیکھے چکے ہیں۔ ان کے مداحوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان کے پنجاب میں بھی سامنے آئی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا اُن کی موت کے بعد بھی اُن کی یہی مقبولیت پی ٹی آئی کے امیدوار زین قریشی کے پوسٹر پر اُن کی آمد کی وجہ بنی؟ زین قریشی کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا بالکل علم نہیں ہے۔ زین اِن دنوں ملتان میں سیاسی مہم میں مصروف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چند دوستوں کی طرف سے انھیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پوسٹر کے عکس بھیجے گئے ہیں۔ تاہم انھیں نہیں معلوم کہ سدھو موسے والا کی تصویر ان کے پوسٹر پر کیسے آئی اور کس نے چھپوائی۔ لیکن جس نے بھی یہ تصویر چھپوائی ہے میں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ پوسٹر جتنا وائرل ہوا ہے ہمارا کوئی پوسٹر اتنا وائرل نہیں ہوا۔‘
زین قریشی کا کہنا تھا کہ وہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سدھو موسے والا کی تصویر والے پوسٹرز کس نے چھپوائے اور کہاں پر لگائے گئے اور چھپوانے والے کا اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ لیکن ان کے خیال میں ایسا ان کی جماعت کے کسی دوست نے ان کی سپورٹ میں کیا ہو گا۔ زین قریشی کا کہنا تھا کہ سدھو موسے والا کی موت سے قبل وہ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ ان کی موت کے بعد انھیں علم ہوا تھا کہ ایک مقبول گلوکار ہونے کے بعد سدھو نے سیاست میں بھی باقاعدہ حصہ لیا تھا۔ انکا کہنا تھا کی سدھو نوجوانوں میں خاص طور پر بہت مقبول تھے اور بہت سے لوگ ان کے گانوں کو پسند کرتے تھے اور شاید اس مقبولیت کے بعد سیاست میں آنا ہی ان کی موت کی وجہ بنی ہو۔
سوشل میڈیا پر چند صارفین نے ان کے سدھو موسے والا کی تصویر والے پوسٹر کے عکس لگائے تو اس پر مختلف زاویوں سے بحث ہوئی۔ ایک صارف نے اس عکس کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 2018 کے انتخابات میں زین قریشی نے اپنے بینرز پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی تصاویر چھپوائی تھیں اور اس مرتبہ سدھو موسے والا کی۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑی نقطہ نظر کی تبدیلی ہو گی۔
یاد رہے کہ سکھوں کی خالصتان تحریک کے حامی سدھو موسے والا کے زیادہ تر گانوں کا موضوع انڈیا کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت رہا ہے۔ تاہم ایک اور صارف جواد خواجہ نے اس موازنے پر ان کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’اگر میں سہی سمجھ رہا ہوں تو آپ کے خیال میں زین قریشی اپنے حلقے میں تمام پوسٹر خود ڈیزائن کرتے یا ان کی اجازت دیتے ہیں؟‘ ایک صارف مرتضٰی نقوی نے لکھا کہ ’میں اسی بنیاد پر زین قریشی کو ووٹ دوں گا۔‘ جبکہ ایک صارف زریاب نے سوال اٹھایا کہ ’سدھو جنوبی پنجاب میں؟‘ تاہم زین قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس قسم کے کسی پوسٹر کے چھاپنے کے حوالے سے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دیں اور نہ ہی ان کے علم میں تھا کہ ایسا کوئی پوسٹر چھپا ہے۔لیکن مجھے یہ پوسٹر اور اس پر سدھو موسے والا کی تصویر دیکھ کر بالکل بھی بُرا نہیں لگا۔ انتخابی مہم کے دنوں میں منفی تشہیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جس بھی ذریعے سے آپ کی تشہیر ہو آپ کو فائدہ ہوتا ہے۔‘ زین قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین نے ان کے اس پوسٹر کو انتخابی مہم میں ان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے خیال میں ان کو اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد زیادہ مثبت پذیرائی ملی ہے۔
