کیا اب 25 MPAs کی نااہلی بھی ختم ہو جائے گی؟

لاہور ہائی کورٹ نے 16 اپریل کو ہونے والے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے
25 منحرف اراکین کے ووٹ شمار کیے بغیر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرانے کا حکم
پٹرول پچاس روپے مہنگا کرنے کا پکا بندوبست کر لیا گیا
تو دے دیا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر منحرف اراکین کے وووٹ ہی شمار نہیں کیے جانے تو پھر ان کی نااہلی کس بنیاد پر ہوئی؟ لہذا اگر دوبارہ گنتی میں ان اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جاتے تو پھر ان کی نااہلی بھی ختم ہونی چاہیئے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک عجیب وغریب فیصلہ دیتے ہوئے پریذائیڈنگ افسر کو 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ہے۔ اگر 25 ارکان ووٹ نہیں ڈال سکتے تو پھر وہ نا اہل کیسے ہو سکتے ہیں؟
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے مختصر حکم نامے میں ہدایت کی کہ 16 اپریل کو ہونے والے الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی منحرف قانون سازوں کے 25 ووٹوں کو شمار کیے بغیر کی جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے تو آرٹیکل 130(4) کے تحت الیکشن دوبارہ کرایا جائے گا، جب تک کہ عہدے کے لیے موجود کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 130(4) کے مطابق ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کسی رکن کو 186 ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے صرف موجودہ اراکین اور ان کے ووٹوں میں سے اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پریذائیڈنگ افسر کی جانب سے 25 ووٹوں کو نکالنے کے بعد حمزہ شہباز مطلوبہ اکثریت سے محروم ہو گئے تو وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور دوبارہ انتخابات کے لیے اگر ضرورت پڑی تو، پنجاب اسمبلی کا اجلاس یکم جولائی 2022 (کل) شام 4 بجے ہوگا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دے کرکہا ہے کہ جب تک انتخابی عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور پریزائیڈنگ افسر منتخب وزیر اعلیٰ کے نتیجے سے گورنر کو آگاہ نہیں کرتا اس وقت تک پنجاب کے اجلاس کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر آرٹیکل 130(5) کے تحت بغیر کسی پس وپیش اور ہچکچاہٹ کے بغیر حلف لینے کا اپنا فرض اگلے روز صبح 11 بجے سے پہلے کسی بھی وقت ادا کرے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سماعتوں کے دوران عدالت نے 16 اپریل کے حالات تناظر میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا۔ واضح رہے کہ 16 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، ان کو منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ 186 ووٹوں سے 11 ووٹ زیادہ ملے تھے۔
حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ دینے والوں میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین بھی شامل تھے۔ پی ٹی آئی نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، صدر مملکت کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کی تشریح کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آرٹیکل 63۔اے کے تحت پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے اراکین اسمبلی نہ صرف ڈی سیٹ ہوں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منحرف اراکین کے خلاف پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا جس پر فیصلہ دیتے ہوئے 20 مئی کو الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا تھا جس کے بعد ایوان میں حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 197 سے کم ہو کر 172 رہ گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت میں ووٹ دینے والے 25 منحرف اراکین کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فکیشن 23 مئی کو جاری کیا تھا۔
منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں مؤقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کے باعث حمزہ شہباز کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے۔ چوہدری پرویز الہٰی، جو پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ق) کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار بھی تھے، نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہیں کیے، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کے باعث حمزہ شہباز کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا کہ 16 اپریل کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر نے حمزہ شہباز کو بلاجواز وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں کامیاب قرار دیا۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حمزہ شہباز کا بطور وزیر اعلیٰ حلف کالعدم قرار دیا جائے اور انہیں عہدے سے ہٹا کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے نئے انتخاب کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔ درخواست میں بتایا گیا تھا کہ حمزہ شہباز کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شمار کیے گئے تھے جبکہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے انتخاب کا نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا تھا، حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد حلف اٹھایا تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حمزہ شہباز کا انتخاب غیر قانونی ہے، اس سے کالعدم قرار دیا جائے اور حمزہ شہباز کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کامیابی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی قرار دیا جائے اور حمزہ شہباز کو کام کرنے اور خود کو چیف ایگزیکٹو ظاہر کرنے سے روکا جائے۔
تاہم اب جب کہ لاہور ہائی کورٹ نے 25 منحرف اراکین کے ووٹ دوبارہ گنتی میں شمار نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کی نااہلی بھی ختم کر دی جائے گی؟
