بندیال کی اپنی مرضی کے جج لگانے کی کوشش ناکام

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے گرمی کی چھٹیوں کے دوران جوڈیشل کونسل آف پاکستان کا اجلاس بلا کر لاہور اور سندھ ہائی کورٹ میں اپنے من پسند ججز لگانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ اس کوشش کو ناکام بنانے کا سہرا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سر ہے جنہوں نے سپین سے ایک خط میں چیف جسٹس کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور اور سندھ ہائی کورٹ میں اپنی مرضی کے جج لگانے کی خاطر جسٹس چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بیرون ملک روانہ ہوتے ہی جوڈیشل کونسل آف پاکستان کا اجلاس طلب کرلیا تھا۔ لیکن فائز عیسیٰ کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد اس معاملے پر کافی شور مچ گیا اور دو روز میں ہونے والے جوڈیشل کونسل کے دونوں اجلاس نئے ججوں بارے کسی نتیجے پر نہ پہنچ پائے۔ چنانچہ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی مستقلی کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

کیا میاں، بیوی میں عمر کا فرق شادی کو متاثر کرتا ہے؟

29 جون کو لاہور ہائی کورٹ کے 13 ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع اور مستقلی کے لیے طلب کیا گیاجوڈیشل کمیشن کا اجلاس صرف پانچ منٹ کے بعد ہی مؤخر کر دیا گیا۔ اجلاس مؤخر کرنے کی وجہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طبیعت کی خرابی بتائی گئی تاہم سینئر وکلا اور بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق طریقہ کار پر اختلاف کے باعث جوڈیشل کمیشن کے ارکان نے بحث مؤخر کی۔

اس سے ایک روز قبل 28 جون کو سندھ ہائی کورٹ میں سات ججز کے لیے تجویز کیے گئے ماتحت عدلیہ کے ججز اور وکلا کے ناموں پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے اور پانچ گھنٹے جاری رہنے کے بعد اجلاس بغیر کسی نتیجے کے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ جوڈیشل کونسل کے سینئر رکن جسٹس فائز عیسیٰ نے جسٹس بندیال کے نام خط میں سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی نامزدگی اور لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی مستقلی کے اجلاس کو طریقہ کار کے خلاف قرار دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے سیشن جج امجد علی بوہیو، سیشن جج سعد قریشی اور انسداد دہشت گری کی عدالت کے جج راشد سولنگی کے علاوہ چار وکلا ارباب ہاکڑو، عبدالرحمان ایڈووکیٹ، خرم رشید اور خادم حسین سومرو کے نام ہائیکورٹ کا جج لگانے کے لیے تجویز کیے تھے۔۔

اجلاس کے بعد میڈیا گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ تمام ناموں پر حتمی فیصلے کو متفقہ طور پر مؤخر کر دیا گیا۔ جوڈیشل کونسل میں موجود پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین ایدووکیٹ نے انٹرویو میں بتایا تھا کہ اجلاس میں وکلا تنظیم کے اعتراض کو اٹھایا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے لسانی بنیادوں پر دباؤ میں آ کر دو طے شدہ نام فہرست سے نکال دیے۔

بار کونسل کے نمائندے کے مطابق ایڈوکیٹ ثنا اکرم منہاس اور ایڈوکیٹ کاشف سرور پراچہ کے خلاف مخالفین نے مہم چلائی تھی کہ ان کا تعلق سندھ سے نہیں اور یہ کہ ان کے والدین سندھ میں باہر سے آئے تھے۔ یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ججز لگانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیوں شریک ہوئے حالانکہ صوبے میں وزارت قانون کا قلمدان بھی ان کے پاس ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپین سے ویڈیو لنک رابطے پر اجلاس میں شریک رہے اور بحث میں حصہ لیا۔ سینئر قانون دانوں کے مطابق اعلیٰ عدلیہ میں ججز کے تقرر کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے تنازع کا شکار ہے اور وکلا تنظیمیں طریقہ کار پر سوال اٹھاتی آئی ہیں۔ قبل ازیں ہائی کورٹس سے جونیئر ججز کو سپریم کورٹ لانے پر بھی وکلا تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ میں بھی تین ججز کی اسامیاں خالی ہیں اور جوڈیشل کمیشن کا اس حوالے سے گزشتہ تین ماہ کے دوران کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جا سکا۔ آئین کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت کُل 17 ججز ہو سکتے ہیں تاہم گزشتہ چند ماہ سے عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کے علاوہ 13ججز کام کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جج لگانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے نو مستقل ارکان ہوتے ہیں۔ آئین کے مطابق چیف جسٹس کمیشن کے چیئرمین جبکہ چار سینئر ججز کے علاوہ ایک ریٹائرڈ جج ارکان میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور وکلا کی تنظیم پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی کمیشن میں نامزدگیوں پر بحث اور ووٹ دینے کا اہل ہے۔

ہائی کورٹس میں جج لگانے کے لیے نو رکنی کمیشن میں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ایک سینئر جج، صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی منظوری کیسے دی جاتی ہے؟سپریم کورٹ میں جج لگانے کے لیے نام چیف جسٹس تجویز کرتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ میں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نامزدگی کرتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن میں ان ناموں پر بحث ہوتی ہے اور منظوری کے بعد سفارشات ججز تقرر پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے چار، چار ارکان شامل ہیں اور اگر پارلیمانی کمیٹی 14 دن میں ان ناموں پر غور نہیں کرتی تو یہ نام حتمی تعیناتی کے لیے منظور تصور کر لیے جاتے ہیں۔ اور صدر کی جانب سے وزارت قانون کے ذریعے نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے۔

Back to top button