اب 12 اکتوبر یوم سیاہ نہیں رہا؟

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب سول ملٹری تعلقات میں دراڑ پڑ جائے تو مرمت سے کام نہیں چلایا جاسکتا۔کارگل آپریشن کے بعد آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دل میں جو گرہ پڑ چکی تھی ،وزیراعظم نوازشریف نے اسے رفع کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری جو سروسز چیفس میں سب سے سینئر تھے اور میرٹ کے پیش نظر انہیں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی بنایا جانا چاہئے تھے مگریہ منصب جنرل پرویزمشرف کے حوالے کردیا گیا۔نوازشریف سعودی عرب گئے تو پرویز مشرف اور انکی اہلیہ صہبا کو ساتھ لے گئے وہاں کچھ باتیں طے ہوئیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ نوازشریف نے اپنے وفاقی وزیر میجرریٹائرڈ راجہ نادرپرویز کو ناراض کرکے ان کے کزن کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کی فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی سمری پر دستخط کردیئے مگر ہونی کو نہ ٹال سکے۔8اکتوبر کو ایک خبر شائع ہوئی جس نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ۔اس خبر میں عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ کورکمانڈر کوئٹہ جنرل طارق پرویز کو آرمی چیف سے اجازت لئے بغیر وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر ہٹایا گیا ہے ۔حالانکہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ پرویز مشرف نے شہباز شریف اور چوہدری نثار کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر جنرل ٹی پی کو ہٹادیں تو سب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔
وزیراعظم کے حکم پر سیکریٹری دفاع چوہدری افتخار علی خان نے پہلے سی جی ایس لیفٹیننٹ جنرل عزیز سے رابطہ کیا اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر بریگیڈیئر راشد قریشی سےبات کی اور اس خبر کی تردید کرنے کو کہا مگر ان دونوں نے یہ عذر پیش کیا کہ آرمی چیف سری لنکا میں ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی بیان جاری نہیں کیا جا سکتا۔یہی وہ فیصلہ کن موڑ تھا جب وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔نوازشریف نے اپنے اسٹاف میں سے سب سے پہلے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کو اعتماد میں لیا۔ اتوار 10اکتوبر کا دن تھا بریگیڈیئر جاوید اقبال جاتی اُمرا پہنچے تو وزیراعظم چہل قدمی کرتے ہوئے انہیں لان میں لے گئے ۔وزیراعظم نے ملٹری سیکریٹری سے ان کا موبائل فون لے لیا ،ذاتی معتمد شکیل کو آواز دی ،اپنا اور ملٹری سیکریٹری کا فون اس کے حوالے کیا تاکہ جو بات وہ کہنے جا رہے ہیں ،وہ لیک نہ ہو سکے۔بریگیڈیئر جاوید اقبال نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایسی صورت میں کمانڈرٹین کور لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد جوابی وار ضرور کرے گا مگر نوازشریف اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کوتیار نہ تھے۔
11اکتوبرکو وزیراعظم نوازشریف نے ابوظہبی جانے کا فیصلہ کرلیا۔اس دورے کا مقصد بظاہر شیخ زید بن سلطان کی عیادت کرنا تھا ۔اب تک صرف چار لوگوں کو یہ بات معلوم تھی کہ پرویز مشرف کو برطرف کرکے جنرل ضیاء الدین خواجہ کو سپہ سالار بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور وزیراعظم انہیں ہی ابوظہبی لیکر گئے۔ان میںڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین خواجہ ،وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئر جاوید اقبال ،نوازشریف کےفرزند حسین نوازاور اسپیچ رائٹر نذیر ناجی شامل تھے۔
12اکتوبر کا سورج طلوع ہوا تو نوازشریف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم تھے لیکن یہی سورج شام کو مارگلہ کے پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہورہا تھا تو نوازشریف کے اقتدار کاسورج ڈھل چکا تھا،اس فیصلہ کن دن کا آغاز شجاع آباد کے جلسے سے ہونا تھا۔جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الدین خواجہ کا خیال ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے عجلت میں سپہ سالار تبدیل کرنے کا فیصلہ 12؍اکتوبر1999ء کی صبح ایک ہنگامی ٹیلیفون کال سننے کے بعد کیا ۔وزیراعظم نوازشریف رُکن پارلیمنٹ جاوید علی شاہ کی دعوت پر ملتان کے نواحی شہر شجاع آباد میں جلسے سے خطاب کرنے پہنچے تھے اورمیں بذات خود بطور رپورٹر اس جلسے میں موجود تھا۔اگرچہ وزیراعظم کے ترجمان صدیق الفاروق اپنی کتاب ’’سرخرو کون‘‘میں کسی بھی قسم کی ٹیلیفون کال کی تردید کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو ایک ٹیلیفون کال آئی جسکے بعد انکے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
واپس روانہ ہوتے وقت سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)افتخار علی خان اور پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی کوپیغام دیا گیا کہ وہ تین بجے چکلالہ ایئر پورٹ پر وزیراعظم سے ملیں۔جہاز لینڈ ہونے پر نوازشریف نیچے اُترے تو انہوں نے سیکریٹری دفاع کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا لیا افتخار علی خان نے کہا کہ اگر آپ جنرل طارق پرویز سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں تووہ معاملہ ختم ہوچکا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے احکامات جاری ہوچکے ہیں ۔نوازشریف نے کہا ،اس ایشو کو بھول جائیں ،میں نے پرویز مشرف کو برطرف کرکے جنرل ضیاالدین خواجہ کو آرمی چیف لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔چوہدری افتخار یہ سن کر حیران رہ گئے اور کہنے لگے ،سر! یہ بہت سنجیدہ نوعیت کا فیصلہ ہے ۔وزیراعظم نے کہا،جنرل صاحب! میں فیصلہ کرچکا ہوں۔چوہدری افتخار نے کہا ،سر کیا آپ نے کابینہ سے مشاورت کی ہے؟کم از کم چوہدری نثار اور شہبازشریف سے مشاورت کرلیں ۔نوازشریف نے کہا،جنرل صاحب! مشورے لینے کا وقت گزر چکا۔
وزیراعظم سیکریٹریٹ پہنچ کرنوازشریف نے سیکریٹری دفاع کو کہا ،پرویز مشرف کی معزولی اور جنرل ضیاالدین خواجہ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کریں ۔سیکریٹری دفاع نے کہا ،جب تک انہیں تحریری طور پر حکم نہیں دیا جاتا وہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکتے ۔وزیراعظم نے سیکریٹری دفاع کو گھور کر دیکھا اور کہا ،تم ڈرپوک ہو ،مشرف سے ڈرتے ہو۔
کچھ ہی دیر میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی نے تحریری حکم نامہ تیارکرلیا تو نوازشریف صدر مملکت سے منظوری لینے کیلئے یہ سمری لیکر خود ایوان صدر گئے ۔صد رممنون حسین نے معزولی کے احکامات کو دیکھنے کے بعد ان پر Seenلکھا اور پھر دستخط کر دیئے۔یوں قانونی و آئینی اعتبار سے جنرل پرویز مشرف سابق آرمی چیف ہو گئے۔5بجے پی ٹی وی پر خبر نشر ہو گئی کہ وزیراعظم نوازشریف نے پرویز مشرف کو معزول کرکے لیفٹیننٹ جنرل ضیاؤالدین خواجہ کو آرمی چیف مقرر کر دیا ہے۔مگر پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔تب سے مسلم لیگ نواز ہر سال 12اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی چلی آئی ہے مگر اس برس 12اکتوبر کو نہ تو کوئی تقریب منعقد ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا رسمی بیان جاری کیا گیا ۔یہاں تک کہ کسی رہنمانے ’’ایکس‘‘پر کوئی ٹویٹ تک نہیں کی۔کیا مسلم لیگ نواز نے 12اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرلی ہے؟
