سہیل آفریدی نے ایک سال میںPTIحکومت کی چھٹی کیسے کروائی؟

سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا تو تحریک انصاف کے کارکنوں کو توقع تھی کہ وہ علی امین گنڈاپور کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ سیاسی حکمت عملی اپنائیں گے اور عمران خان کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کریں گے۔ لیکن تقریباً 361 روزہ دورِ حکومت کے اختتام پر ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا سیاسی احتجاج اور وفاق سے مسلسل کشمکش صوبے کے انتظامی، ترقیاتی اور سکیورٹی مسائل کا متبادل بن سکتی ہے؟ 11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان کی حکومت کا خاتمہ اس سیاسی حکمت عملی کے نتائج پر بحث کا نیا مرحلہ بن گیا۔

سہیل آفریدی قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان رہنما تھے، جنہیں عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور کی جگہ وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان کے انتخاب کو تحریک انصاف کے کارکنوں نے ایک ایسے رہنما کے انتخاب کے طور پر دیکھا جو بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے زیادہ متحرک کردار ادا کرے گا۔ چنانچہ ان کے دور میں صوبائی سیاست کا مرکزی محور عمران خان کی رہائی، وفاقی حکومت سے اختلافات اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچوں کی تیاری بنا رہا۔ لیکن اس سیاسی سرگرمی کے باوجود سہیل آفریدی نہ عمران خان سے جیل میں ملاقات کر سکے اور نہ انہیں رہا کرانے میں کامیاب ہوئے، جبکہ بالآخر اپنی حکومت بھی برقرار نہ رکھ سکے۔

وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی کی حکومت نے صحت سہولت کارڈ کی بحالی، ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی، عوامی فلاح کے منصوبوں اور سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ کابینہ اور بیوروکریسی کے لیے اہداف مقرر کیے گئے، عوامی شکایات کے ازالے، احتساب، ڈیجیٹل نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا گیا۔ سرکاری بیانات میں صوبائی محصولات کے اہداف سے زیادہ وصولی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی کے دعوے بھی سامنے آئے۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ آیا ان کوششوں نے عام شہریوں کی زندگی، بنیادی سہولتوں اور صوبے کی مجموعی ترقی میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے دور میں چھوٹے ترقیاتی منصوبے تو شروع کیے گئے، لیکن کسی بڑے اور نمایاں منصوبے کی تکمیل یا پیش رفت ان کی حکومت کی شناخت نہ بن سکی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات نے ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل اور انتظامی کارکردگی کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ جب وزیراعلیٰ کی توجہ مسلسل وفاق سے سیاسی کشمکش اور عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں پر مرکوز رہے تو صوبے کے روزمرہ مسائل کے لیے مطلوبہ وقت اور سیاسی توجہ فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تنقید ہے جو سہیل آفریدی کے دورِ حکومت کے جائزے میں بار بار سامنے آتی ہے۔

ان کے لیے سب سے سنگین چیلنج امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال تھی۔ خیبرپختونخوا، بالخصوص جنوبی اور جنوب مغربی اضلاع میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے واقعات نے حکومت کی کارکردگی پر دباؤ بڑھایا۔ سہیل آفریدی نے خیبر اور تیراہ کے مقامی قبائلی جرگوں سے مذاکرات کیے اور وفاق کے سامنے این ایف سی ایوارڈ، صوبائی فنڈز اور ضم شدہ اضلاع کے مالی حقوق کا معاملہ اٹھایا۔ لیکن یہ کوششیں صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکیں۔ تجزیہ کاروں نے اس ناکامی کی وجوہات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان شدت پسندی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر اختلافات کو اہم قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، لیکن تحریک انصاف کی پالیسی واضح نظر نہیں آئی۔ ان کے تجزیے میں سہیل آفریدی کے دور میں دہشت گردی کی شدت صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوال بن کر سامنے آئی۔ دوسری طرف وفاقی حکومت صوبائی حکومت پر الزام لگاتی رہی کہ وہ امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت وفاق سے فنڈز اور سکیورٹی وسائل کی کمی کی شکایت کرتی رہی۔ یوں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے بجائے دونوں حکومتوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوتے گئے۔

اس کشیدگی کا ایک اہم نتیجہ وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی تعاون اور رابطوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی تناؤ نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون کو متاثر کیا۔ ایسے حالات میں جب صوبے کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہو، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اعتماد اور رابطوں کی کمی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ تاہم امن و امان کی مجموعی ناکامی کا تعین کرتے وقت دہشت گردی کے عوامل، وفاقی پالیسی، سرحد پار صورت حال اور صوبائی انتظامی ذمہ داریوں کا الگ الگ جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

سہیل آفریدی کے دور کا ایک اہم سیاسی پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اپنے صوبے کے وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کے ساتھ مستقل محاذ آرائی میں گھرے رہے۔ صوبائی حقوق، مالی وسائل اور سکیورٹی پالیسی پر اختلافات اپنی جگہ اہم تھے، لیکن جب سیاسی تصادم مسلسل بڑھتا گیا تو حکومتی ترجیحات اور عوامی توقعات کے درمیان فاصلہ بھی زیرِ بحث آنے لگا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی خواہش عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاج تھی، مگر وزیراعلیٰ کی ذمہ داری صرف احتجاجی سیاست تک محدود نہیں تھی۔ انہیں صوبے میں امن قائم رکھنے، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے، اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی مسائل حل کرنے کا بھی جواب دینا تھا۔

بالآخر 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورت حال اور آئینی بحران کو جواز بناتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں سہیل آفریدی کی حکومت معطل ہوئی اور انہیں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سمیت حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ اس فیصلے کی آئینی حیثیت، ضرورت اور سیاسی اثرات پر الگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن اس نے سہیل آفریدی کے مختصر دورِ حکومت کا اختتام ایک بڑے سیاسی بحران کے ساتھ کر دیا۔

سہیل آفریدی کے تقریباً ایک سالہ دور کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت بیک وقت عوامی خدمت، ترقیاتی ترجیحات، امن و امان اور پارٹی کی سیاسی جدوجہد میں مؤثر توازن قائم کر سکتی ہے؟ ان کے دور میں فلاحی منصوبوں، محصولات اور صوبائی حقوق کے حوالے سے اقدامات اور دعوے سامنے آئے، لیکن دہشت گردی، ترقیاتی کارکردگی اور وفاق سے تعلقات کے بحران نے ان کی حکومت کی مجموعی تصویر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ عمران خان کی رہائی کا مقصد حاصل نہ ہو سکا، وفاق کے ساتھ کشیدگی کم نہ ہوئی اور حکومت بھی ختم ہو گئی۔ یہی تضاد سہیل آفریدی کے سیاسی عروج سے گورنر راج تک کے سفر کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔

Back to top button