KPKمیں گورنر راج کے بعد پاک افغان کشیدگی بڑھنے کا خطرہ کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور صوبائی حکومت کی معطلی نے پاکستان کی داخلی سیاست کے ساتھ پاک افغان تعلقات کو بھی ایک نئے اور حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے، جبکہ ناقدین اسے صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں موجود شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کے مسلسل مطالبات اور سرحدی کشیدگی نے یہ سوال بھی اہم بنا دیا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری ہے، یا اس کا مقصد صوبے میں سکیورٹی انتظامات پر وفاقی کنٹرول مضبوط کرنا ہے؟
وفاقی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سابق صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہیں کیا اور پولیس و سکیورٹی اداروں کو ضروری وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ حکومتی وزرا کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کے تحریک طالبان پاکستان سے روابط تھے، تاہم ان الزامات کے شواہد عوام کے سامنے لانے اور ان کی آزادانہ تصدیق کا معاملہ اہم ہے۔ تحریک انصاف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو سیاسی انتقام اور منتخب حکومت ختم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق ایسے غیر معمولی اقدامات کا جواز، قانونی حیثیت اور مدت شفاف عدالتی جانچ کے تابع ہونی چاہیے۔
خیبر پختونخوا طویل عرصے سے تحریک انصاف کا سیاسی مرکز رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے صوبے کو شدید سکیورٹی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ اسلام آباد افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور افغان طالبان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کریں۔ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوبے میں انتظامی کنٹرول تبدیل کرنے سے سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن پائیدار امن کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد، مؤثر پولیسنگ اور سیاسی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔
اس صورت حال کا سب سے حساس پہلو پاک افغان تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں، دہشت گردی کے الزامات اور جوابی اقدامات نے پہلے ہی کشیدگی بڑھا رکھی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اضافی فوجی دستوں اور سکیورٹی وسائل کی تعیناتی سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آ سکتی ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ افغان طالبان کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ تاہم اگر کابل کی جانب سے پاکستانی مطالبات کا قابلِ قبول جواب نہ آیا اور حملوں میں اضافہ جاری رہا تو سرحد پار کارروائیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سکیورٹی امور کی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ سمیت بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کی معطلی مقامی آبادی میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عوامی تعاون متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں سکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھتے ہوئے قانون، شواہد اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھاتی ہے یا نہیں۔
بالآخر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی محض ایک صوبائی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی داخلی سیاست، صوبائی خودمختاری اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر سفارتی دباؤ اور مؤثر سکیورٹی اقدامات سے دہشت گردی کم نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ لیکن کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتائج سرحدی سلامتی تک محدود نہیں رہیں گے؛ ان کے اثرات عام شہریوں، تجارت، علاقائی استحکام اور پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی راستوں کو مؤثر بنائے گی یا خطہ ایک نئے عسکری تصادم کی طرف بڑھے گا؟
