پاک افغان تجارت کی بندش نے معیشت کا کباڑہ کیسے نکالا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش محض دو ملکوں کے درمیان ایک تجارتی تنازع نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا معاشی بحران بن چکی ہے جس کی قیمت دونوں جانب کے تاجر، صنعت کار، کسان، ٹرانسپورٹر اور عام شہری ادا کر رہے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی اس بندش نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کا پہیہ روک دیا بلکہ وسطی ایشیا تک پاکستان کی تجارتی رسائی، افغانستان کی برآمدات، اشیائے ضروریہ کی رسد اور سرحدی علاقوں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ جو راستے کبھی مال بردار ٹرکوں، تازہ پھلوں، سبزیوں، ادویات، سیمنٹ، چاول اور دیگر مصنوعات کی نقل و حرکت سے آباد رہتے تھے، وہاں اب کاروباری سرگرمیاں محدود، گاڑیاں بے کار اور متعدد کاروبار خسارے کا شکار ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس بحران کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سرحد بند کرنے کے ذریعے حاصل ہونے والے سیاسی یا سکیورٹی مقاصد اپنی جگہ، لیکن اس کے معاشی اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ افغانستان کو متبادل تجارتی راستوں پر زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان کاروباری حلقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جن کی معیشت کا بڑا حصہ افغان تجارت سے وابستہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایک سال سے جاری اس بندش نے دونوں ملکوں کی معیشت کو کس حد تک متاثر کیا، متبادل راستوں نے کتنی مشکلات پیدا کیں اور کیا تجارت کی مکمل بندش سے کسی فریق کو مستقل معاشی برتری حاصل ہو سکتی ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم، چمن و سپین بولدک، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ سمیت اہم تجارتی گزرگاہیں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے علاوہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے تجارتی روابط کے لیے بھی اہم ہیں۔ اکتوبر 2025 میں مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد ان راستوں کی بندش سے دونوں جانب کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر تجارت کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا، جبکہ سکیورٹی سے متعلق اختلافات نے تجارتی تعلقات کی بحالی کو مشکل بنا دیا۔
افغانستان کی تازہ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو اس بندش سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان افغان مصنوعات کی اہم منڈی اور ترسیل کا نسبتاً سستا راستہ تھا۔ مشترکہ ایوانِ تجارت کے سربراہ خان جان الکوزئی کے مطابق، بعض تازہ پھلوں کی قیمتوں میں 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے، جس سے کسانوں اور تاجروں کی آمدنی متاثر ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان کے بجائے متبادل راستوں سے افغانستان سامان پہنچانا مہنگا ہو گیا ہے۔ الکوزئی کے مطابق، پہلے ایک کنٹینر کی ترسیل پر زیادہ سے زیادہ 2,500 ڈالر خرچ ہوتے تھے، جبکہ اب یہ لاگت 10,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان کو بھی اس صورت حال میں بھاری معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد تاجر، صنعت کار اور ٹرانسپورٹر افغان تجارت پر انحصار کرتے تھے۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان افغانستان مشترکہ ایوانِ تجارت کے سربراہ زاہداللہ شنواری کے مطابق، صوبے کی 90 فیصد تجارت اور کاروبار کا تعلق افغانستان سے تھا، جبکہ سرحدی بندش کے بعد بعض کارخانوں کی پیداوار کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ پاکستان سے افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، چاول، آٹا، ٹیکسٹائل مصنوعات، مصالحے اور دیگر اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جن کی تجارت رکنے سے کاروبار اور روزگار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے بقول ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہوا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، سرحدی بندش سے پہلے روزانہ سینکڑوں ٹرک طورخم، چمن اور دیگر گزرگاہوں سے سامان منتقل کرتے تھے۔ اب بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں اور ڈرائیوروں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ دوسری طرف سرحدی علاقوں میں تازہ اور خشک میوہ جات سمیت بعض اشیا کی رسد محدود ہونے سے قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی پیدا ہوا ہے۔
افغانستان نے پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لیے ایران، چین، روس اور وسطی ایشیائی ملکوں سمیت متبادل منڈیوں اور راستوں کی طرف توجہ بڑھائی ہے۔ افغان صنعت کاروں کے مطابق، اس دوران مقامی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم، متبادل راستوں کی زیادہ لاگت اور طویل فاصلوں کے باعث پاکستان کے ساتھ قائم تجارتی نظام کا نقصان فوری طور پر پورا کرنا آسان نہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ افغان تاجر مستقل طور پر دوسرے راستوں اور منڈیوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو ہونے والے مجموعی معاشی نقصان کا درست تخمینہ لگانے کے لیے برآمدات، درآمدات، بے روزگاری، صنعتی پیداوار اور اضافی ترسیلی اخراجات کے جامع اعدادوشمار درکار ہیں۔ دستیاب معلومات سے یہ واضح ہے کہ نقصان دونوں جانب ہو رہا ہے، البتہ اس کی نوعیت مختلف ہے۔ افغانستان کو مہنگی درآمدات اور برآمدات میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کاروبار، صنعت اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے بقول پاکستان کے سکیورٹی خدشات اور افغانستان کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن تجارت کی طویل بندش کے معاشی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ سکیورٹی انتظامات برقرار رکھتے ہوئے تجارتی راستوں کی بحالی، کسٹم نظام میں بہتری اور تنازعات کے حل کے لیے مؤثر طریقۂ کار اختیار کریں۔ سرحدی تجارت کی بحالی نہ صرف تاجروں اور صنعت کاروں بلکہ کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے مفاد میں بھی ہے۔ بصورتِ دیگر، سیاسی کشیدگی کی قیمت دونوں ملکوں کی معیشتوں اور عوام کو مزید عرصے تک ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

Back to top button